The news is by your side.

Advertisement

بُوئے کباب، بلبل کا دل اور جگرؔ

کسی مشاعرے میں ایک استاد اٹھے اور انھوں نے طرح کا ایک مصرع دیا۔

’’چمن سے آرہی ہے بوئے کباب‘‘

بڑے بڑے شاعروں نے طبع آزمائی کی، لیکن کوئی کمال گرہ نہ لگا سکا۔ ان میں سے ایک شاعر نے قسم کھالی کہ جب تک گرہ نہ لگائیں گے، چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ اس کا طریقہ انھوں نے یہ نکالا کہ ہر صبح دریا کے کنارے چلے جاتے اور وہاں بیٹھ کر اونچی آواز سے الاپتے،’’چمن سے آرہی ہے بوئے کباب‘‘

ایک روز وہ دریا کنارے اسی مصرع میں الجھے ہوئے بیٹھے تھے۔ قریب سے ایک نوعمر لڑکا گزر رہا تھا جس کے کان میں یہ مصرع پڑا۔ اس لڑکے نے فوراً گرہ لگائی:

’’کسی بلبل کا دل جلا ہوگا‘‘

شاعر نے پلٹ کر دیکھا اور ان سے رہا نہ گیا، دوڑے اور اس لڑکے کو سینے سے لگالیا۔ معلوم ہوا اس کا نام علی سکندر ہے۔ یہی لڑکا بعد میں جہانِ سخن میں اپنے تخلّص، جگر سے مشہور ہوا۔ جگر نے اپنے تخلّص میں آبائی علاقے کی نسبت مراد آبادی کا اضافہ کیا اور جگر مراد آبادی کے نام سے استاد شاعر مشہور ہوئے۔

(ادیبوں اور شعرا کے مشہور لطائف اور تذکروں سے انتخاب)

Comments

یہ بھی پڑھیں