The news is by your side.

Advertisement

کیا آپ جوشش ؔ کو جانتے ہیں؟

اردو شاعری کے کلاسیکی عہد کے کئی نام ایسے ہیں‌ جن کا نہ تو کلام محفوظ رہا اور نہ ہی ان کے حالاتِ زندگی معلوم ہیں۔ چند سوانحی خاکے ہیں‌ بھی تو نامکمل اور اکثر غیرمستند۔ اسی طرح ان کا بہت کم کلام دست یاب ہوسکا ہے

جوشش سے بھی بہت سے قارئین واقف نہیں‌ ہوں‌ گے، ان کا کلام بہت کم سنا اور پڑھا گیا ہو گا، لیکن انھیں میر تقی میر کا ہم عصر بتایا جاتا ہے۔ دست یاب سوانحی خاکہ بتاتا ہے کہ 1737 میں‌ عظیم آباد میں‌ آنکھ کھولی اور 1801 تک زندگی کا سفر جاری رہا۔ دبستانِ دلّی کے قائل اور اپنے زمانے میں‌ عظیم آباد کے نمائندہ شعرا میں‌ شمار ہوئے۔ ان کا اصل نام شیخ محمد روشن تھا۔ سخن وری میں‌ کمال رکھتے تھے اور علمِ عروض کے ماہر تھے۔ جوشش کی ایک غزل پیشِ‌ خدمت ہے۔

غزل
چشمِ خونخوار، ابروئے خم دار دونوں ایک ہیں
ہیں جدا لیکن بوقتِ کار دونوں ایک ہیں

باعثِ آرام یہ، نے موجبِ آزار وہ
چشمِ وحدت میں ہی گل اور خار دونوں ایک ہیں

التیامِ زخمِ دل کے حق میں گر کیجے نگاہ
سبزۂ خط مرہمِ زنگار دونوں ایک ہیں

میرے اس کے گو جدائی آ گئی ہے درمیاں
جس گھڑی باہم ہوئے دو چار دونوں ایک ہیں

جو نہ مانے اُس کو عاشق ہو کے اس پہ دیکھ لے
ابروئے خم دار اور تلوار دونوں ایک ہیں

یہ نہیں کہنے کا جوشش ؔ ہو گا جو صاحب دماغ
زلفِ یار و نافۂ تاتار دونوں ایک ہیں

(شاعر: شیخ محمد روشن جوشش)

Comments

یہ بھی پڑھیں