پیر, جون 8, 2026
اشتہار

یادِ رفتگاں: مجید امجد نے زندگی سے تھک کر نظموں کے انبار لگا دیے

اشتہار

حیرت انگیز

چیخوف نے کہا تھا کہ تخلیقی سفر میں تنہائی ایک اذیت ناک عمل ہے۔ ہمارے عہد میں ایک شاعر ایسا ہوا جس نے اس اذیت ناکی کو قبول کرنے کا جگر پیدا کیا۔ ادبی مرکزوں سے دور، تحریکوں سے بے تعلق، نعروں اور نظریاتی بحثوں سے بے نیاز اس نے ساہیوال میں ڈیرا کیا اور شاعری کو شعار کیا۔ کل اس تنہا آدمی کا تخلیقی سفر تمام ہوا۔ تخلیقی سفر بھی اور زندگی کا سفر بھی۔

ساہیوال کے اس ویران مکان میں کسی نے جھانک کر دیکھا جہاں سے ایک سینک سلائی آدمی وقتاً فوقتاً نکل کر سائیکل پر سوار ہو کر رینگتا رینگتا اسٹیڈیم ہوٹل کی طرف جاتا دیکھا جاتا تھا، دروازہ بند تھا۔ سائیکل کھڑی تھی، آدمی سو رہا تھا۔ وہ ہمیشہ کے لیے سو گیا تھا۔ اردو شاعری مجید امجد کو کھو بیٹھی تھی۔

مجید امجد نے ایک ہنگامہ خیز دور میں آنکھ کھولی۔ پہلی جنگِ عظیم کے آغاز کے ساتھ پیدا ہوا۔ ترقی پسند تحریک اور نئے ادب کی تحریک کے زمانے میں شعر کہنا شروع کیا، لیکن شاعر کو ہنگامے سے نفور تھا۔ نہ شخصیت پُر شور، نہ شاعری ہنگامہ خیز۔ دوسرے شاعر تحریکوں اور مشاعروں اور انجمنوں کے زور پر چمک رہے تھے۔ مجید امجد نہ ترقی پسند تحریک میں شامل ہوئے، نہ میرا جی کی منڈلی سے پیوست ہوئے۔ نہ بمبئی دیکھی، نہ لاہور میں رہے۔ ایک ایسی بستی میں ٹھکانہ بنایا۔ جس کی فضا میں اتنی ہی نرم روی اور دھیما پن ہے جتنا ان کی نظموں میں ہے۔

مجید امجد اپنے عہد میں رہتے ہوئے اپنے عہد سے پنہاں رہے، مگر عہد ان سے پنہاں نہیں تھا۔ عہد سے ایک سطح پر یکسر بے تعلقی، دوسری سطح پر گہرا تعلق۔ کسی ادبی تحریک یا کسی سیاسی قصے کے واسطے سے نہیں بلکہ طرز احساس کے واسطے سے انہوں نے عہد سے رشتہ پیدا کیا تھا اور پچھلے چالیس سال کی ہماری ادبی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ادبی تحریکوں اور سیاسی تحریکوں کو واسطے سے عہد کے ساتھ رشتہ جوڑنے میں بالعموم یہ گھپلا ہو جاتا ہے کہ لکھنے والا خود عہد کا حصہ بن جاتا ہے، عہد کا مفسر نہیں بن پاتا۔ عہد سے کھرا رشتہ عہد کے طرزِ احساس تک رسائی حاصل کرنے سے پیدا ہوتا ہے اور عہد کا ترجمان اور مفسر بننے کے لیے عہد سے بے تعلق بھی ہونا پڑتا ہے۔ مجید امجد عہد سے اتنے بے تعلق تھے کہ زمانے کے کسی اچھے برے میں ہم عصروں کے کسی قصے قضیے میں کبھی شامل نہیں دیکھے گئے۔ مجید امجد علائق دنیوی سے اسی طور پر آزاد تھے جس طور کوئی بڑا صوفی علائق دنیوی سے آزاد ہوتا ہے۔ خیر صوفی کا تو زمانہ کچھ نہیں بگاڑ سکتا مگر شاعر اگر یہ طور اختیار کرے تو زمانہ اس سے پورا پورا بدلہ لیتا ہے۔

ویسے تو مجید امجد کے یہاں ترقی کرنے کی کوئی خواہش نہیں تھی، حالانکہ آج کل تو ہر ادیب ہی ترقی کرنے پر تلا ہوا ہے۔ انہوں نے اپنی ملازمت میں بھی ترقی کے راستے اپنے آپ پر اس طرح بند کر لئے تھے کہ ساہیوال سے تبادلہ ہو کر باہر جانے کے لیے کبھی آمادہ ہی نہیں ہوئے۔ دنیا سے بے تعلقی اپنی جگہ، قناعت اپنی جگہ مگر آدمی کے ساتھ ہرج مرج تو لگا ہوا ہی ہے۔ ریٹائر ہونے کے ساتھ ساتھ مجید امجد ساری تندرستی اور توانائی کھو بیٹھے۔ ان کی بیماری کا پتہ بھی باہر والوں کو بس اتفاق ہی سے چل گیا۔ منیر نیازی اور احمد مشتاق کہیں ساہیوال میں جا نکلے، ہمراہ ہم بھی تھے۔ دیکھا کہ مجید امجد اب وہ مجید امجد نہیں ہیں، گھل گھلا کر بس ایک ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ گیا ہے۔ لگتا ہے کہ زندگی کا سفر اب ختم ہوا ہی چاہتا ہے مگر تخلیقی سفر اسی حساب سے تیز ہو گیا تھا۔ زندگی سے تھک کر شاعری میں وہ اتنا تیز چلے کہ نظموں کے انبار لگا دیے۔ آخری ایام میں مجید امجد نے اتنا کہا ہے کہ ان کا مروجہ شعری مجموعہ ”شب رفتہ“ اب اس کا ایک چھوٹا سا جُز ہے اور یہ کہا ہوا ایسا نہیں ہے کہ اسے بسیار گوئی کہہ کر ٹال دیا جائے۔ ان نظموں میں مجید امجد نئے نئے امکانات کو ٹٹولتے نظر آتے ہیں۔

(11 مئی 1974ء کو وفات پانے والے مجید امجد کو جدید اردو نظم کا مشہور شاعر کہا جاتا ہے، جن کے بارے میں معروف فکشن نگار اور نقّاد انتظار حسین کی تحریر سے یہ پارے لیے گئے ہیں)

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں