The news is by your side.

Advertisement

دماغ چوئٹّا

سَن تو ٹھیک یاد نہیں، ہاں پندرہ سولہ سال ادھر کی بات ہے، میں حسبِ معمول لاہور گیا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ ‘‘نیرنگِ خیال’’ گر رہا تھا اور ‘‘ادبی دنیا’’ ابھر رہا تھا۔ کرشنؔ چندر، اور راجندرؔ سنگھ بیدی خوب خوب لکھ رہے تھے۔ صلاحؔ الدین احمد اور میراجیؔ کی ادارت میں ‘‘ادبی دنیا’’ اِس نفاست سے نکل رہا تھا کہ دیکھنے دکھانے کی چیز ہوتا تھا۔

میرا جیؔ کی شاعری سے مجھے کچھ دل چسپی تو نہیں تھی، مگر ایک عجوبہ چیز سمجھ کر میں اِسے پڑھ ضرور لیتا تھا۔ اسے سمجھنے کی اہلیت نہ تو اس وقت تھی اور نہ اب ہے۔ اس کے مختصر سے مختصر اور طویل سے طویل مصرعے خواہ مخواہ جاذبِ نظر ہوتے تھے۔ چھوٹے سےچھوٹا مصرع ایک لفظ کا اور بڑے سے بڑا مصرع اتنا کہ ‘‘ادبی دنیا’’ کے جہازی سائز کی ایک پوری سطر سے نکل کر دوسری سطر کا بھی آدھا پونا حصہ دبا لیتا تھا۔

خیر تو مطلب وطلب تو خاک سمجھ میں آتا نہ تھا۔ البتہ میرا جیؔ کی نظم میں وہی کشش ہوتی تھی جو ایک معمّے میں ہوتی ہے، مگر ان کی نثر میں بَلا کی دل کشی ہوتی تھی۔ مشرق کے شاعروں اور مغرب کے شاعروں پر انہوں نے سلسلے وار کئی مضامین لکھے تھے اور سب کے سب ایک سے بڑھ چڑھ کر۔ اس کے علاوہ ادبی جائزے میں جس دقّتِ نظر سے میرا جیؔ کام لیتے بہت کم سخن فہم اس حد کو پہنچتے۔

ہاں تو میں لاہور گیا تو مال روڈ پر ‘‘ادبی دنیا’’ کے دفتر بھی گیا۔ کمرے میں داخل ہوا تو صلاح الدین احمد نظر نہیں آئے۔ سامنے ایک عجیب وضع کا انسان بیٹھا تھا۔ زلفیں چھوٹی ہوئی، کھلی پیشانی، بڑی بڑی آنکھیں، استواں ناک، موزوں دہانہ، کترواں مونچھیں، منڈی ہوئی ڈاڑھی، تھوڑی سے عزم ٹپکتا تھا۔ نظریں بنفشی شعاعوں کی طرح آر پار ہوجانے والی۔ خاصی اچھی صورت شکل تھی، مگر نہ جانے کیا بات تھی کہ موانست کی بجائے رمیدگی کا احساس ہوا۔

گرمیوں میں گرم کوٹ! خیال آیا کہ شاید گرم چائے کی طرح گرم کوٹ بھی گرمیوں میں ٹھنڈک پہنچاتا ہو گا، دل نے کہا ہو نہ ہو میرا جیؔ ہو۔ یہ تو اس شخص کی شاعری سے ظاہر تھا کہ غیرمعمولی انسان ہوگا۔

پوچھا ‘‘صلاحؔ الدین احمد صاحب کہاں ہیں؟’’ بولے ‘‘کہیں گئے ہوئے ہیں۔’’ پوچھا ‘‘آپ میرا جی ہیں؟’’ بولے ‘‘جی ہاں۔’’ میں نے اپنا نام بتایا۔ تپاک سے ملے۔ کچھ دیر ان سے رسمی سی باتیں ہوئیں۔ ان کے بولنے کاانداز ایسا تھا جیسے خفا ہو رہے ہوں، نپے تلے فقرے ایک خاص لہجے میں بولتے اور چپکے ہوجاتے۔ زیادہ بات کرنے کے وہ قائل نہ تھے، اور نہ انہیں تکلف کی گفتگو آتی تھی۔ پہلا اثر یہ ہوا کہ یہ شخص اکھل کھرا ہے، دماغ چوئٹا ہے۔

مختصر سی بات چیت کے بعد اجازت چاہی۔ باہر نکلے تو میرے ساتھی نے کہا ‘‘ارے میاں یہ تو ڈاکو معلوم ہوتا ہے۔ اس نے ضرور کوئی خون کیا ہے، دیکھا نہیں تم نے؟ اس کی آنکھیں کیسی تھیں؟’’ میں نے کہا ‘‘یہ تو اللہ ہی کو معلوم ہے کہ وہ کیا ہے۔ مگر آدمی اپنی وضع کا ایک ہے۔’’

تھوڑے ہی عرصہ بعد ان سے دوبارہ ملاقات ہوئی۔ اب کے دلّی میں۔ ریڈیو پر وہ تقریر کرنے آئے تھے۔ مجھ سے ملنے میرے گھر آئے۔ جب گئے تو بہت کچھ پہلا اثر زائل کرگئے۔ آدمی تو برا نہیں ہے۔ دماغ چوئٹّا بھی نہیں ہے ورنہ ملنے کیوں آتا؟

پھر ایک دفعہ آئے اور بولے کہ ‘‘ریڈیو میں مُلازمت کے لیے بُلایا ہے۔’’ مجھے کچھ تعجب سا ہوا کہ یہ شخص ریڈیو میں کیا کرے گا؟ بہرحال معلوم ہوا کہ گیت لکھیں گے اور نثر کی چیزیں بھی۔ تنخواہ ڈیڑھ سو ملے گی۔ میں نے کہا ‘‘تنخواہ کم ہے۔ ادبی دُنیا میں آپ کو کیا ملتا تھا؟’’ بولے ‘‘تیس روپے’’۔ میں نے حیرت سے کہا ‘‘بس!’’ کہنے لگے‘‘مولانا سے دوستانہ تعلقات تھے۔’’ میں نے کہا ‘‘تو ٹھیک ہے۔ حسابِ دوستاں درِ دل۔’’

معلوم ہوا کہ بیوی بچے تو ہیں نہیں کیوں کہ شادی ہی نہیں کی۔ اپنے خرچے بھر کو ڈیڑھ سو روپے بہت تھے۔ چنانچہ میراجیؔ ریڈیو میں نوکر ہوگئے اور ان سے اکثر ملاقات ہونے لگی۔

(معروف ادیب، انشا پرداز، خاکہ و سوانح نگار شاہد احمد دہلوی کے مضمون سے ایک پارہ)

Comments

یہ بھی پڑھیں