The news is by your side.

Advertisement

مرزا سودا، جس سے خفا ہوجاتے، اس کے لیے مصیبت ہوجاتی تھی

مرزا مُحمّد رفیع سوؔدا کے باپ دلّی میں تجارت کرتے تھے اور اُن کی گنتی وہاں کے دولت مندوں میں ہوئی تھی، اِس لیے سوؔدا نے اچھّی تعلیم پائی۔ اور خوش حال زندگی بسر کی۔

دلّی کی حالت اچھّی نہیں تھی، مگر سوؔدا کو اتنی پریشانی نہیں تھی۔ ان کے تعلقات بادشاہ سے بھی تھے اور بڑے بڑے امیروں سے بھی، مگر جب دلّی رہنے کے قابل نہیں رہ گئی تو وہ بھی نکلے اور فرخ آباد اور ٹانڈہ کے نوابوں کے یہاں چلے گئے جہاں اُن کی بہت عزّت ہوئی۔

لکھنؤ میں بھی سوؔدا کی آؤ بھگت ہوئی۔ یہاں کے شاعروں سے اِن کے مقابلے بھی ہوئے اور ایک دوسرے کی ہجویں بھی خوب لکھی گئیں۔ سوؔدا نے لکھنؤ ہی میں 1781 میں انتقال کیا، وہ ہر قسم کی شاعری میں کمال رکھتے تھے۔ غزل، مثنوی، قصیدہ، مرثیہ، ہجو، رُباعی، پہیلیاں، اُن کے دیوان میں سبھی چیزیں موجود ہیں، لیکن اُن کو سب سے زیادہ کمال قصیدہ، ہجو اور مرثیہ لکھنے میں حاصل تھا۔

ان کی غزلیں بھی بہت اچھّی ہوتی تھیں، لیکن اتنی دل کش نہیں جتنی میرؔ اور دردؔ کی غزل اور اس کے لیے جیسی سادہ زبان، گداز سے بھری ہوئی طبیعت اور عاشقانہ کیفیت کی ضرورت ہے، وہ سوؔدا کے یہاں اتنی نہیں تھی۔ قصیدے البتہ وہ شان دار لکھتے تھے۔ ہجویں زہر میں بُجھی ہوئی ہوتی تھیں جس کے پیچھے پڑ جاتے تھے اس کے لیے مصیبت ہو جاتی تھی۔

کہا جاتا ہے کہ ان کا ایک ملازم تھا جس کا نام غنچہ تھا، وہ ہر وقت قلم دان لیے ساتھ رہتا تھا۔ جب کسی سے خفا ہوتے تو کہتے تھے “لانا تو غنچہ میرا قلم دان، ذرا اس کی خبر لے لوں!” مگر یاد رکھنا چاہیے کہ ان ہجوؤں میں محض لوگوں کی بُرائیاں نہیں ہوتی تھیں بلکہ اس زمانے میں جو پریشانی، بیکاری، بد اخلاقی اور غریبی تھی، ان سب کا بیان بھی دل چسپ مگر غم ناک طریقے پر ہوتا گیا۔ ہنسی ہنسی میں رونے کی باتیں ہوتی تھیں، اِسی طرح ان کے مرثیے بھی بہت اچھّے اور اثر کرنے والے ہوتے تھے۔ ان تمام باتوں کو سامنے رکھا جائے تو یقیناً یہ ماننا پڑتا ہے کہ وہ اردو کے بہت بڑے شاعر تھے۔

سودا کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے۔

کیفیتِ چشم اس کی مجھے یاد ہے سوداؔ
ساغر کو مرے ہاتھ سے لیجو کہ چلا میں

فکر معاش، عشقِ بتاں، یادِ رفتگاں
اس زندگی میں اب کوئی کیا کیا، کِیا کرے

سوداؔ خدا کے واسطے کر قصّہ مختصر
اپنی تو نیند اڑ گئی تیرے فسانے میں

دل کے ٹکڑوں کو بغل بیچ لیے پھرتا ہوں
کچھ علاج اس کا بھی اے شیشہ گراں ہے کہ نہیں

گُل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ بر اندازِ چمن کچھ تو ادھر بھی

Comments

یہ بھی پڑھیں