The news is by your side.

Advertisement

رضی اختر شوق نے کہا تھا، کل کسی اور نام سے آجائیں‌ گے!

خواجہ رضی الحسن انصاری کو دنیائے ادب رضی اختر شوقؔ کے نام سے جانتی ہے۔

انھیں جدید لب و لہجے کا شاعر مانا جاتا ہے۔ رضی اختر شوق نے اردو شاعری میں اپنے تخیل کو کچھ اس سلیقے سے برتا کہ ہم عصروں نے انھیں سراہا اور ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا۔ شائقین نے ان کے کلام کو پسند کیا اور ان کے متعدد اشعار زباں‌ زد عام ہوئے۔

22 جنوری 1999 کو کراچی میں اردو زبان کے اس معروف شاعر کی زندگی کا سفر تمام ہوا۔ سہارن پور کے رضی الحسن انصاری نے ابتدائی تعلیم حیدرآباد دکن سے حاصل کی۔ جامعہ عثمانیہ سے گریجویشن کے بعد وہ پاکستان چلے آئے جہاں کراچی میں قیام و قرار کیا۔ اس شہر میں ایم اے کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے جامعہ کراچی کا رخ کیا اور امتحان پاس کرنے کے بعد ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوئے۔ اسٹوڈیو نمبر نو کے نام سے ریڈیو پر ان کے کئی ڈرامے سامعین کے لیے یادگار ثابت ہوئے۔

رضی اختر شوق کا شمار ان شعرا میں کیا جاتا ہے جن کا کلام خوب صورت جذبوں اور لطیف احساسات سے آراستہ ہونے کے ساتھ بلند خیالی کا نمونہ ہے۔ ان کے شعری مجموعوں میں مرے موسم مرے خواب اور جست شامل ہیں۔

رضی اختر شوق کا یہ شعر تو سبھی کو یاد ہے۔

ہم روحِ سفر ہیں ہمیں ناموں سے نہ پہچان
کل اور کسی نام سے آجائیں گے ہم لوگ

ان کی ایک غزل دیکھیے۔

اے خدا صبر دے مجھ کو نہ شکیبائی دے
زخم وہ دے جو مری روح کو گہرائی دے

خلقتِ شہر یونہی خوش ہے تو پھر یوں ہی سہی
ان کو پتّھر دے، مجھے ظرفِ پذیرائی دے

جو نگاہوں میں ہے کچھ اس سے سوا بھی دیکھوں
یا اِن آنکھوں کو بجھا یا انہیں بینائی دے

تہمتِ عشق تو اس شہر میں کیا دے گا کوئی
کوئی اتنا بھی نہیں طعنہَ رسوائی دے

مجھ کو اس شہر کی درماندہ خرامی سے الگ
پھر مرے خواب دے اور پھر مری تنہائی دے

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں