ساحر، برصغیر کے مقبول شاعر تھے جن کی ایک نظم ’’تاج محل‘‘ نے ایک عظیم الشان اور پُرشکوہ عمارت سے جڑے اُس تصور کو گویا زمیں بوس کر دیا جو مغل بادشاہ اور ملکہ کی محبت کو لافانی اور بے مثال ثابت کرتا تھا۔ ممتاز محل کی یہ یادگار اپنے طرزِ تعمیر کا ایک شاہکار تھی جس کی بنیادوں کو ساحر کے تخیل نے ہلا کر رکھ دیا۔
ترقی پسند شاعر ساحر لدھیانوی کو ان کے ہم عصروں میں اپنی نظموں اور فلمی گیتوں کی وجہ سے جو امتیاز اور مقبولیت حاصل ہوئی وہ بے مثال ہے۔ ساحر کا نام ہندوستان کے طول و عرض میں گونجا جنھوں نے رومانوی شاعری کے ساتھ دھرتی سے محبت کے ترانے لکھے اور سماج میں ناانصافی اور ہر قسم کے جور و ستم کے خلاف بھی نظمیں لکھتے رہے۔ معروف ادبی شخصیت اور صحافی حمید اختر ان کے بچپن کے دوست تھے۔ حمید اختر لکھتے ہیں، "ان کی زندگی میں بڑے بڑے انقلاب آئے لیکن فن کی حد تک وہ کبھی ایک لمحے کے لیے بھی اپنے مسلک سے ادھر اُدھر نہیں ہوئے۔”
ساحرلدھیانوی کی شخصیت بڑی پر کشش تھی۔ لیکن وہ اپنے چہرے پر چیچک کے نشانات کی وجہ سے خود کو کم رو خیال کرتے تھے۔ اس کے باوجود ان کے عشق کے متعدد قصے مشہور ہوئے اور ان کی رومانوی اور انقلابی شاعری کی وجہ سے ہندوستان بھر میں لڑکیاں ان کی دیوانی تھیں۔ ساحر کی مداح لڑکیاں انھیں عشقیہ خطوط لکھتیں اور ان کی شاعری سے اپنی بیاض سجاتی تھیں۔ کہتے ہیں کہ ادبی پرچوں سے ساحر کی تصویریں کاٹ کر لڑکیاں ہی نہیں لڑکے بھی ان کی تصویر اپنی ڈائری میں محفوظ کرلیا کرتے تھے۔ حافظ لدھیانوی کے بقول "ساحر کا قد لمبا، منہ پر چیچک کے خفیف نشانات، ناک لمبی، آنکھیں بہت خوبصورت، دراز پلکیں، جنہیں وہ ہاتھوں سے درست کرتے تھے۔ مخروطی انگلیوں میں سونے کی انگوٹھی، نرم گفتگو، لہجے میں محبت اور پیار کی خوشبو جس سے کوئی بھی شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ ان سے ایک بار مل کر دوبارہ ملنے کو جی چاہتا تھا۔
ساحر کے والد نے اوپر تلے آٹھ شادیاں کیں، لیکن اولاد نرینہ سے محروم رہے۔ پھر ساحر کی والدہ سے شادی ہوئی اور ان سے بیٹے کی خواہش پوری ہوگئی۔ لیکن ساحر چھوٹے تھے کہ والد نے ان کی ماں کو طلاق دے دی۔ ساحر کو اپنے باپ سے بچپن ہی سے نفرت ہوگئی تھی۔ اس کی وجہ فضل محمد (والد) کا ماں سے بدسلوکی اور لعن طعن تھا۔ ساحر، اپنی ماں کو مظلوم سمجھتے تھے اور ان سے بہت محبت کرتے تھے۔ طلاق کے بعد جب والدہ الگ ہوئیں تو ساحر انہی کے ساتھ رہے۔
ساحر نے والد کی جائیداد میں سے ایک کوڑی بھی نہیں لی۔ والد بڑے مال دار اور صاحب جائیداد تھے اور لدھیانہ کے قریب ان کی جاگیر تھی۔ ایک موقع پر باپ نے پیغام بھیجا کہ جاگیر سنبھال لو اور میرے پاس آ جاﺅ۔ ساحر نے جواب بھیجا میری ماں ہی میری جاگیر ہے۔ اپنی ماں کی عائلی زندگی اور طلاق کے بعد ان کی مشکلات اور والدہ کے لیے اپنی محبت اور جذبات کو ساحر نے اپنے انٹریوز اور مضامین میں بیان کیا ہے۔ یہ پارے ’’میں ساحر ہوں‘‘ نامی کتاب سے لیے گئے ہیں جو والدہ کی موت کے بعد ساحر لدھیانوی کے کرب اور جذبات کو ہمارے سامنے رکھتے ہیں۔
ساحر لدھیانوی کی زندگی کا کرب اور اپنی ماں سے محبت ان کی زبانی کچھ یوں پڑھنے کو ملتی ہے: میرے ماں باپ نے، میری پیدائش پر شان دار جشن رکھا، کیونکہ میں جناب فضل محمد (انہیں آج والد کہنے سے مجھے عار ہے) کے خاندان کا پہلا چشم و چراغ تھا۔ مجھے جناب فضل محمد صاحب کا بیٹا ہونے کا تو کوئی فخر نہ تھا، لیکن مجھے یہ غرور تھا کہ میں اپنی ماں کا سپوت تھا۔
میرا نام قرآن شریف سے فال دیکھ کر، میرے والد نے عبدالحئی رکھا۔ میری کمسنی کا زمانہ، یوں تو نہایت لاڈ اور پیار میں گزرا، لیکن والدین کی آپس میں نہیں بن رہی تھی، میرے والد امی پر ہر طرح سے اپنا غصہ نکالتے، ان حالات و واقعات کے پیش نظر دن بہ دن میرے ذہن میں والد کی جگہ صرف ان کا نام رہنے لگا۔۔۔۔ فضل محمد!
فضل محمد صاحب میری والدہ کو مالی طور پر سب کچھ دینے کو تیار تھے لیکن جو میری والدہ چاہتی تھیں، وہ سب نہیں۔ میری ماں دقیانوسی نہیں تھیں۔ میرے والدین کے درمیان ان بن اور اختلاف بڑھتا جا رہا تھا اور میں ننھی سی جان کچھ نہیں کر پا رہا تھا۔ میں اکثر سہما سہما سا رہتا، ماں کی مجبوری اور ان کی روح پر لگائے جانے والے زخموں کی شدت کا اندازہ لگانا اس چھوٹی سی عمر میں میرے لیے آسان نہیں تھا، لیکن میری ماں کی روح پر باپ کی جانب سے لگائے گئے ہر ایک زخم کی بازگشت میرے کورے ذہن پر نقش بن کر محفوظ ہوتی گئی۔ یہ ان بن اتنی بڑھی کہ ماں نے ایک روز حق کی لڑائی کے لیے عدالت جانے کا راستہ اختیار کرنے کی ٹھان لی اور آخر کار عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
فضل محمد صاحب جس عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے تھے، اس کے مطابق ان کی آمدنی ناکافی تھی۔ اس کی تلافی کے لیے اُنہوں نے آہستہ آہستہ اپنی جائیداد فروخت کرنی شروع کر دی تھی۔ یہ بات ماں کو ہرگز قبول نہیں تھی، چونکہ یہ ہمارے مستقبل کا سوال تھا۔ اوّل تو انہوں نے فضل محمد صاحب کو سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن ان پر کیا اثر ہوتا؟ خود ماں نے مایوس ہو کر ان سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔
ماں سے بے پناہ محبت کی وجہ سے میں بھی ان ہی کے ساتھ فضل محمد سے الگ رہنے لگا۔ ماں کو امید تھی کہ فضل محمد سیدھی راہ پر آجائیں گے، لیکن حقیقت یہ تھی کہ ان کے کان پر جوں تک نہ رینگتی تھی، نہ کبھی رینگ سکی۔ فضل محمد صاحب کو قانونی طور پر جائیداد کی آمدنی استعمال کرنے کا حق تھا، لیکن اس کو فروخت کرنے کا اختیار نہیں تھا۔ ماں سوچتی تھی اور چاہتی تھی کہ ساری جائیداد کا تنہا وارث مجھے ہی ہونا چاہیے، چنانچہ انہوں نے عدالت میں فضل محمد صاحب کے خلاف دعویٰ دائر کر دیا۔ یہ مقدمہ بہت برسوں تک چلتا رہا اور ماں کو اپنے زیورات اور جو کچھ بھی بچا تھا، مقدمے کی نذر کرنا پڑا۔
مقدمے کے دوران ایک موقع پر فضل محمد صاحب نے عدالت میں یہ درخواست پیش کی کہ مجھے ان کے حوالے کر دیا جائے، کیونکہ ماں نے ان سے مکمل طور پر کنارہ کر لیا تھا۔ فضل محمد صاحب نے یہ بات اس لیے بھی کہی کیونکہ ماں سے الگ ہونے سے پہلے انہوں نے ایک اور (بارہویں ) شادی بھی کر لی تھی اور اس بیوی سے انہیں کوئی اولاد ہی نہیں تھی۔ مجھے اپنے ساتھ رکھنے کا قانونی طور پر حق انہیں حاصل تھا، لیکن میں نے عدالت میں جو بیان دیا اس سے ان کا دعویٰ الٹا پڑ گیا اور ان کا مقدمہ بھی کمزور پڑ گیا۔ مجھے فخر ہے کہ ماں کے ساتھ ہر ایک مشکل گھڑی میں میں مضبوطی سے لگا رہا، تاہم عدالتی بیان کے وقت میری عمر محض دس برس کے ارد گرد تھی۔ فضل محمد صاحب نے اگر چہ اس سلسلے میں یہ دلیل دی کہ میری سوتیلی ماں مجھ سے اچھا سلوک کرے گی اور ان کی محبت مجھ پر ہمیشہ رہے گی اور وہ بہتر نگہبان ہوں گے۔
فضل محمد صاحب کے اس بیان سے عدالت مطمئن بھی ہو گئی تھی۔ لیکن اس سوال پر کہ میری تعلیم کا کیا انتظام کیا جائے گا، فضل محمد صاحب نے کہا: اللہ کا دیا سب کچھ تو موجود لڑکا پڑھ لکھ کر کیا کرے گا، گھر بیٹھ کر کھاتا پیتا رہے گا۔” اس بیان کے بعد جج صاحب کا فیصلہ ہمارے حق میں ہو گیا، کیونکہ میری ماں نہ صرف میری تعلیم بلکہ ہر لحاظ سے میری پرورش کے بارے میں سنجیدہ تھیں اور میرے مستقبل کے بارے میں زیادہ فکر مند تھیں۔ جج صاحب کا خیال تھا کہ اگر میں، فضل محمد صاحب کے ساتھ رہا تو ان ہی کی طرح جاہل رہوں گا۔ چنانچہ اب میں قانونی طور پر ماں کے ساتھ رہنے لگا۔
مجھے قانونی طور پر نہ حاصل کر پانے پر، فضل محمد صاحب نے میری ماں کو دھمکانا شروع کر دیا۔ مجھے اغوا کرنے سے لے کر جان سے مار دینے تک کی دھمکی دے ڈالی۔ ماں جو کہ بہت باہمت اور بہادر تھیں، لیکن پھر بھی ان دھمکیوں سے خوف کھا گئیں، کیونکہ یہ میری زندگی کا سوال تھا، جس میں وہ کوئی کوتاہی نہیں برتنا چاہتی تھی۔ لہٰذا ماں نے میری حفاظت کے لیے ایک گارڈ تنخواہ پر تعینات کر لیا۔
۱۳ جولائی ۱۹۷۶ء کی وہ رات میری زندگی کی ایک ایسی رات تھی، جب میرے لیے وقت ٹھہر گیا تھا اور میری زندگی امی کی سانسوں میں سکڑ کر رہ گئی تھی۔ امی کی حالت ہر لمحہ بگڑتی جا رہی تھی اور میں ساحر لدھیانوی اپنی تمام تر دولت، شہرت اور بڑے سے بڑے شخص کو اپنے سامنے جھکانے کی طاقت کے باوجود، اس وقت کو ٹالنے کے معاملے میں بے بس، لاچار اور کتنا مجبور تھا، وہ میرا دل ہی جانتا ہے۔ وہ ماں جس نے اپنی تمام تر مشکلات کے باوجود، مجھے پریشان ہونے نہیں دیا، عبدالحئی سے ساحر لدھیانوی بننے کے سفر میں میری ماں ہمیشہ اور ہر دم میرے ساتھ رہی۔ میں جب باہر ہوتا ہوں، تب بھی وہ میرے ساتھ رہتی تھی اور مجھے اندازہ ہے کہ اس نے اپنی زندگی کی بے شمار راتیں جاگ جاگ کر کاٹی تھیں اور مجھے آرام کی نیندیں بخشی تھیں۔ آج وہی ماں میری آنکھوں کے سامنے ہمیشہ نہ آنے کے سفر پر اک خاموش سا الوداع کہہ کر، میرے ہاتھوں سے چھوٹ گئی۔
ساری زندگی اس نے مجھے اپنی پرورش اور نگہبانی کی گرفت میں رکھا۔ اس نے عبدالحئی کو بھی اپنی گود میں پالا تھا اور ساحر لدھیانوی کو بھی اپنی گود بخشی تھی۔ وہ میری زندگی کا آسمان تھی، ایسا آسمان جسے میں سمجھتا تھا کہ یہ ہمیشہ میرے سر پر سائبان بنا رہے گا۔ میں نے یوں تصورات میں کتنے ہی آسمانوں کی سیر کر لی تھی لیکن اس حقیقت کا تصور میں نہیں کر پایا کہ کوئی وقت یہ آسمان بھی میرے سر سے اٹھ جائے گا۔ میری امی اب اس پار چلی گئی تھی اور میری زندگی اس لمحے کے بعد سے قیامت کے پنجوں میں جکڑ گئی تھی۔ اب میں روتا بھی ہوں تو میری آواز میرے کان بھی سن نہیں پاتے۔ آنکھوں سے آنسوؤں کی دھار بہتی ہے لیکن خود مجھے نظر نہیں آتی۔ میرے جذبات ٹکڑوں میں بٹ گئے، میری فکر میرے قابو سے باہر ہو گئی اور مجھ سے میری زندگی کی دھارا چھن گئی اور میں ظاہری طور پر بھی اکیلا ہو گیا، اور اپنے اندر بھی تنہا پڑ گیا۔
میرے پاس آج وہ سب کچھ تھا جس کی آرزو میں نے بھی کی تھی لیکن تصور نہیں کیا تھا، اگر کچھ نہیں تھا تو اس ماں کا سایہ۔ ماں کے گزر جانے کے بعد، میں جس کیفیت سے گزر رہا تھا، اسے سمجھنے کے لیے، اس ماں بیٹے کے رشتے کی گہرائیوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ میری محبت کا مرکز ہمیشہ صرف ماں ہی رہی۔ اس کے ملنے سے میری زندگی کا دائرہ سمٹ کے غائب ہوتا جا رہا تھا۔ میری ماں کی حسرت تھی کہ میں ان کے رہتے شادی کر لیتا لیکن میں محبت تو کر سکتا تھا مگر اسے شادی میں تبدیل کرنے سے بہت گھبراتا تھا۔ شاید اپنی ذاتی زندگی میں بچپن ہی سے اتنا کچھ دیکھ چکا تھا کہ اس رشتے سے ایک پرہیز سا ہو چلا تھا۔ میں عمر بھر تنہا ہی رہا، میرے اندر کی یہ تنہائی صرف میں ہی دیکھ سکتا تھا۔ نغموں اور نظموں کے ذریعہ میری یہ تنہائی کم کم ہی سہی، لوگوں تک پہنچی ہے، جس وقت میری ماں کی زندگی میں اس مکان کی بنیاد ڈالی گئی تھی، تب میں نے اس مکان کا نام رکھتے وقت یہ نہیں سوچا تھا کہ مکان کا نام اور میرے اندر کی تنہائی، امی کی موت اور دوستوں کے بچھڑ جانے کے بعد، دونوں سگی بہنوں کی شکل میں میرے سامنے آکھڑی ہو جائیں گی۔ اب میں نظر اٹھاتا ہوں تو اندر کی تنہائی سے آنکھیں چار ہو جاتی ہیں اور نظر پھیلاتا ہوں تو میرے حواس پر پر چھائیاں چھا جاتی ہیں۔ یہ پرچھائیاں میری امی کی بھی تھیں اور خود میرے جسم سے ساحر لدھیانوی کے دور کہیں گم ہو جانے کی بھی۔
ماں، جنہوں نے مجھے کتنی ہی ماؤں کا پیار دیا تھا۔ باپ کی طرف سے دیے گئے ہر دکھ کے پہاڑ کو، وہ میرے سہارے ساری زندگی برداشت کرتی رہیں۔ ہر مصیبت کے لمحوں میں، انہوں نے مجھے ڈھال کی طرح سنبھالے رکھا۔ ایک پودے کی طرح انہوں نے میری حفاظت آسمانی آفتوں اور زمینی پریشانیوں سے، اس طرح کی کہ میں آخری سانس تک بس ان کا قرض چکا نہیں سکتا۔ ایک پودا تناور درخت بننے تک، میری ماں، میرا اکلوتا سہارا رہی اور آج میں اس ماں کے ہنستے، کھلتے چہرے کو، اسی ماں کے زمزم جیسے وجود کو، ڈھیروں مٹی تلے، انہی ہاتھوں سے دبا آیا ہوں اور اب، جب بھی اس ہاتھ میں قلم پکڑنے لگتا ہوں، تو شعر نہیں نکلتے، صرف میری ماں کے کفن کی خوشبو کاغذ پر بکھر نے لگتی ہے۔
میرے ذہن میں ماں کے تصور کے علاوہ اب کوئی خیال کہیں نظر نہیں آتا۔ ایسا لگتا ہے کہ میرے سارے وجود میں اسی قبرستان کا صفر سما گیا ہے، چاروں طرف ایک سناٹا ہے اور میرے اندرون میں صرف یہی سناٹے سائیں سائیں کر رہے ہیں۔ گھر کے در و دیوار ماں کی پرچھائیوں سے بھر گئے ہیں۔ میرے لیے میری امی زمین پر رب تھیں۔ اب میں اس لفظ کے آگے ان کے لیے کچھ نہیں سوچ سکتا۔


