جمعہ, مارچ 13, 2026
اشتہار

شہریار کا تذکرہ جن کی فلمی شاعری نے مقبولیت کے ہفت خواں طے کیے

اشتہار

حیرت انگیز

شہریار کو بحیثیت تخلیق کار بہت کم اہمیت دی گئی، مگر ان کے فلمی گیتوں اور غزلوں کا شہرہ برصغیر میں‌ ہر اس جگہ ہوا جہاں اردو شاعری اور ہندوستانی موسیقی سے شغف رکھنے والے موجود تھے۔ شہریار کی دہائیوں پہلے لکھی گئی فلمی شاعری کو جب ساز اور آواز ملی تو اس نے سبھی کو اپنے سحر میں مبتلا کردیا۔ بھارتی شاعر نے ’امراؤ جان‘ جیسی کام یاب فلم کے لیے نغمات لکھے تھے جو آج بھی ذوق و شوق سے سنے جاتے ہیں۔

بولی وڈ کی سپر ہٹ فلم امراؤ جان کی فلمی شاعری کی دھوم تو ہر طرف مچی ہوئی تھی مگر بطور شاعر شہریار کو اپنی ناقدری کا گلہ بھی رہا۔ انھیں ایک ایک سیدھا سادہ انسان کہا جاتا تھا جو دکھاوا، خوشامد اور ہر قسم کی گروہ بندی سے دور رہا۔ یہی وجہ تھی کہ شہریار کو اس فلم کی کام یابی کا کریڈٹ نہیں‌ دیا گیا اور وہ گمنام ہی رہے۔

یہ فلمی گیت آج بھی ہماری سماعتوں کو سحر زدہ کیے ہوئے ہے:
دل چیز کیا آپ میری جان لیجیے
بس ایک بار میرا کہا مان لیجیے

اور یہ نغمہ دیکھیے
یہ کیا جگہ ہے دوستو یہ کون سا دیار ہے
حدِ نگاہ تک جہاں غبار ہی غبار ہے

اس فلمی گیت کو شاید ہی فراموش کیا جاسکے جو شہریار کے تخیل کی دین ہے:
ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیں
ان آنکھوں سے وابستہ افسانے ہزاروں ہیں

گلوکارہ آشا بھوسلے کی آواز نے گویا ان گیتوں میں جادو سا بھر دیا تھا۔ فلم امراؤ جان میں اداکارہ ریکھا نے ہیروئن کا کردار بڑی خوبصورتی سے ادا کیا تھا۔ فلم میں ہیرو فاروق شیخ تھے۔ کہتے ہیں‌ کہ فلم کی مقبولیت کی بڑی وجہ اس کے یہ نغمات تھے۔اس کے برعکس اس دور کے دوسرے فلمی شاعروں کو خوب شہرت ملی تھی۔ شہریار اپنے ہم عصر فلمی شعرا جن میں ساحر لدھیانوی، مجروح سلطان پوری اور حسرت جے پوری اور دیگر کی طرح ابھر کر سامنے نہیں‌ آسکے تھے۔ بعض ناقدین نے انھیں ایک عمدہ غزل گو شاعر بھی لکھا ہے اور شہریار کے کلام کو سراہا ہے۔ تاہم ان پر بہت کم لکھا گیا ہے۔ انھوں ادبی صحافت بھی کی اور کئی مضامین ان کے قلم سے نکلے جو شہریار کو ایک اچھا نثر نگار بھی ثابت کرتے ہیں۔

ان کا نام کنور محمد اخلاق تھا۔ دنیائے ادب میں وہ شہریار کے نام سے جانے گئے۔ وہ 16 جون 1936 کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ ان کے والد پولیس انسپکٹر تھے۔ شہریار 1948 میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966 میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ شہریار کو شروع ہی سے ہاکی، بیڈمنٹن اور رمی کھیلنا پسند تھا۔ ان کی ملاقات خلیل الرحمن اعظمی سے ہوئی اور پھر شہریار کا رجحان شاعری کی طرف ہوگیا۔ شہریار نے فلم گمن اور امراؤ جان کے بعد فلم انجمن کے گانے بھی لکھے۔ ان کا پہلا شعر مجموعہ "اسم اعظم” 1965ء میں منظر عام پر آیا۔ دوسرا مجموعہ "ساتواں در” کے نام سے 1969 میں جب کہ تیسرا شعری مجموعہ "ہجر کے موسم ” کے نام سے 1978 ء میں اور چوتھا "خواب کا در بند ہے” کے نام سے 1985 میں شایع ہوا۔ پانچواں شعری مجموعہ "نیند کی کرچیں” تھا جو 1996 میں چھپا۔ 2004 میں شہریار کی کتاب "شام ہونے والی ہے” کے نام سے سامنے آئی اور ان کے انتقال کے ایک سال بعد 2013 میں "سورج کو نکلتا دیکھو” کے نام سے شہریار کا کلیات علی گڑھ کے ایک مطبع خانے سے شائع ہوا۔

بھارت میں انھیں گیان پیٹھ اور ساہتیہ اکیڈمی سمیت متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ 13 فرروری 2012 کو مقبول ترین فلموں کے اس گیت نگار کا انتقال ہوگیا تھا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں