The news is by your side.

نامور شاعرہ اور ادیبہ فہمیدہ ریاض انتقال کر گئیں

لاہور: اردو کی نامور شاعرہ اور ادیبہ فہمیدہ ریاض انتقال کر گئیں، ان کی عمر 73 سال تھی اور کافی عرصے سے شدید علیل تھیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کی ممتاز شاعرہ اور فکشن نگار فہمیدہ ریاض لاہور میں جہانِ فانی سے کوچ کر گئیں، وہ 28 جولائی 1945 کو میرٹھ میں پیدا ہوئیں۔

خواتین کے حقوق کے لیے بھرپور جدوجہد کے حوالے سے بھی مشہور تھیں۔

فہمیدہ ریاض کا تعلق بھارتی ریاست اُتر پردیش کے ایک ادبی خاندان سے تھا، ان کے والد ریاض الدین احمد ایک ماہرِ تعلیم تھے، تقسیم کے بعد ان کا خاندان حیدر آباد سندھ میں قیام پذیر ہوا تھا۔

فہمیدہ ریاض شاعری میں اپنی تانیثی (فیمنسٹ) آواز کے لیے معروف تھیں، وہ اپنے غیر روایتی خیالات کے باعث اردو ادبی منظر نامے میں تیزی سے مقبول ہو گئی تھیں۔

وہ خواتین کے حقوق کے لیے بھرپور جدوجہد کے حوالے سے بھی مشہور تھیں، جمہوریت کی خاطر انھیں جنرل ضیا الحق کے دور میں ملک بھی چھوڑنا پڑا تھا، ضیا الحق کے انتقال کے بعد وہ بھارت سے واپس پاکستان آئیں۔


یہ بھی پڑھیں:  جون ایلیا کو ہم سے بچھڑے 16 برس بیت گئے


فہمیدہ ریاض نے لندن سے فلم ٹیکنک میں ڈپلومہ بھی حاصل کیا، طالب علمی ہی کے زمانے میں حیدر آباد میں پہلی نظم لکھی جو معتبر ادبی پرچے ’فنون‘ میں چھپی۔

ان کا پہلا شعری مجموعہ ’پتھر کی زبان‘ 1967 میں آیا، تاہم جب ان کا دوسرا مجموعہ ’بدن دریدہ‘ منظرِ عام پر آیا تو اس نے بولڈ نسائی اظہار کے باعث قارئین کو چونکایا۔

ان کی شعری تصانیف میں پتھر کی زبان، بدن دریدہ، دھوپ، کیا تم پورا چاند نہ دیکھو گے، اپنا جرم ثابت ہے، ہم رکاب اور کلیات میں مٹی کی مورت ہوں شامل ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں