The news is by your side.

Advertisement

تم نے مٹی کے عوض بھی مجھے مہنگا بیچا (شاعری)

غزل
پانی پانی کا مرا شور ذرا سا کم ہے
اور یہ لوگ سمجھتے ہیں یہ پیاسا کم ہے

تم نے مٹی کے عوض بھی مجھے مہنگا بیچا
کہ مرا مول تو اس شے سے بھی خاصا کم ہے

میں تو بادل کو ہی پانی کا غنی سمجھا تھا
آنکھ برسی تو کھلا اُس کا اثاثہ کم ہے

میں نے رکھا ہے ابھی دل کے ترازو پہ اسے
آپ کے درد کی نسبت یہ دلاسہ کم ہے

کچھ نہ کچھ درد کی رہتی ہے ملاوٹ مجھ میں
کہ کبھی بڑھ گیا ماسہ، کبھی ماسہ کم ہے

وقت نے جو ترے ہاتھوں میں دیا ہے عزمی
تیری اوقات زیادہ ہے، یہ کاسہ کم ہے

 

 

اس کلام کے خالق عزم الحسنین عزمی ہیں جن کا تعلق گجرات کے گاؤں ڈوڈے سے ہے، ان کی غزلیں مختلف اخبارات، رسائل اور ویب سائٹس پر شایع ہوتی رہتی ہیں

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں