The news is by your side.

Advertisement

وہ اشعار جن میں مختلف بیماریوں کا علاج موجود ہے!

ایک زمانہ تھا جب سبزیوں، پھلوں اور دیگر غذائی اجناس سے مختلف بیماریوں اور امراض کا علاج کیا جاتا تھا۔ خالص غذائی اجناس اور تازہ سبزیوں اور پھلوں کی افادیت اور ان کی خاصیت و تاثیر سے حکیم اور معالجین خوب واقف ہوتے تھے۔

آج جہاں نت نئے امراض اور بیماریاں سامنے آرہی ہیں، وہیں ان کے علاج کا بھی جدید اور سائنسی طریقہ اپنا لیا گیا ہے جو کہ ضروری بھی ہے۔ تاہم مہلک اور خطرناک امراض ایک طرف عام شکایات کی صورت میں بھی ہم قدرتی طریقہ علاج کی طرف توجہ نہیں دیتے۔

یہ نظم جہاں آپ کی دل چسپی کا باعث بنے گی، وہیں عام جسمانی تکالیف کے حوالے سے ایک حکیم جو کہ شاعر بھی تھے، ان کے تجربات اور معلومات کا نچوڑ بھی ہے۔

دیکھیے وہ کیا کہتے ہیں۔

جہاں تک کام چلتا ہو غذا سے​
وہاں تک چاہیے بچنا دوا سے

​اگر خوں کم بنے، بلغم زیادہ​
تو کھا گاجر، چنے ، شلغم زیادہ

جگر کے بل پہ ہے انسان جیتا​
اگر ضعفِ جگر ہے کھا پپیتا

جگر میں ہو اگر گرمی کا احساس​
مربّہ آملہ کھا یا انناس

​اگر ہوتی ہے معدہ میں گرانی​
تو پی لے سونف یا ادرک کا پانی

تھکن سے ہوں اگر عضلات ڈھیلے​
تو فوراََ دودھ گرما گرم پی لے

جو دُکھتا ہو گلا نزلے کے مارے​
تو کر نمکین پانی کے غرارے

​اگر ہو درد سے دانتوں کے بے کل​
تو انگلی سے مسوڑوں پر نمک مَل

شفا چاہے اگر کھانسی سے جلدی​
تو پی لے دودھ میں تھوڑی سی ہلدی
​​
دمہ میں یہ غذا بے شک ہے اچھی​
کھٹائی چھوڑ کھا دریا کی مچھلی
​​
جو بد ہضمی میں تُو چاہے افاقہ​
تو دو اِک وقت کا کر لے تُو فاقہ

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں