The news is by your side.

Advertisement

ہنسنے رونے سے گئے، ربط بڑھانے سے گئے…

کرونا کی وبا سے جہاں دنیا کے کونے کونے میں، پُررونق شہروں، گنجان آباد علاقوں، تجارتی مراکز، منڈیوں اور دور دراز کے مقامات تک ہر قسم کا کاروبارِ حیات شدید متاثر ہے، وہیں اس زمین کے باسیوں کے طرزِ زندگی پر بھی اس وائرس کے گہرے اثرات دیکھے جاسکتے ہیں۔

ایمان قیصرانی کی ایک غزل پیشِ خدمت ہے جسے کرونا کا نوحہ کہا جائے تو کیا غلط ہوگا۔

 

ہنسنے رونے سے گئے، ربط بڑھانے سے گئے
ایسی اُفتاد پڑی سارے زمانے سے گئے

وہ تعفن ہے کہ اس بار زمیں کے باسی
اپنے سجدوں سے گئے، رزق کمانے سے گئے

دل تو پہلے ہی جدا تھے یہاں بستی والو
کیا قیامت ہے کہ اب ہاتھ ملانے سے گئے

اس قدر قحط ِ وفا ہے مرے اطراف کہ اب
یار یاروں کو بھی احوال سُنانے سے گئے

زخم اتنے تھے کہ ممکن ہی نہ تھا ان کا شمار
پھر بھی اے دوست ترے ہاتھ لگا نے سے گئے

اپنی قامت میں فلک بوس تھے ہم لوگ مگر
اک زمیں زاد کے آواز لگانے سے گئے

اپنا یہ حال کہ ہیں جان بچانے میں مگن
اور اجداد جو تھے، جان لڑانے سے گئے

تجھ کو کیا علم کہ ہم تیری محبت کے طُفیل
ساری دنیا سے کٹے، سارے زمانے سے گئے

اصل مقصود تو بس تجھ سے ملاقات ہی تھا
ہم ترے شہر مگر اور بہانے سے گئے

 

 

ڈیر غازی خان سے تعلق رکھنے والی شاعرہ  ایمان قیصرانی

Comments

یہ بھی پڑھیں