The news is by your side.

Advertisement

2022ء: آنے والے دنوں کی تابانی، جانے والے دنوں سے بڑھ کر ہو!

کچھ خوشیاں کچھ آنسو دے کر ٹال گیا
جیون کا اک اور سنہرا سال گیا

یہ 31 دسمبر 2021ء کی وہ شب ہے جس کے وجود سے نیا سنہ (سال) جنم لے گا۔ ساتھ ہی دنیا بھر میں کئی لوگوں کے سِن بھی تبدیل ہوجائیں گے۔ گردشِ ماہ و سال اسی کا تو نام ہے۔

نئے سال یعنی 2022ء کا بھی ہر دن ماضی بن کر 12 مہینوں کی لڑی میں پیوست ہوتا چلا جائے گا۔ کیلنڈر میں‌ ہماری خوشیاں اور تمام رنج و غم واقعات اور حادثات کی صورت میں‌ تاریخ وار جگہ پائیں گے۔ الغرض ماہ و سال کی اس گردش میں انسان اپنا سفر جاری رکھے گا۔

ممتاز شاعر عرش صدیقی کی یہ نظم ملاحظہ کیجیے۔

اُسے کہنا دسمبر آگیا ہے!

اُسے کہنا دسمبر آگیا ہے
دسمبر کے گزرتے ہی برس اک اور ماضی کی گپھا میں ڈوب جائے گا
اُسے کہنا دسمبر لوٹ آئے گا
مگر جو خون سو جائے گا جسموں میں نہ جاگے گا
اسے کہنا ہوائیں سرد ہیں اور زندگی کہرے کی دیواروں میں لرزاں ہے
اسے کہنا، شگوفے ٹہنیوں میں سو رہے ہیں
اور ان پر برف کی چادر جمی ہے
اسے کہنا، اگر سورج نہ نکلے گا
تو کیسے برف پگھلے گی
اسے کہنا کہ لوٹ آئے

خنک شامیں، یخ بستہ ہوائیں اور بہت سی سہانی اور تلخ یادیں دسمبر کے مہینے میں گویا تازہ ہوجاتی ہیں۔ یہ مہینہ اردو شاعری کا موضوع بھی رہا ہے۔ ہر سال ایسی نظمیں اور اشعار ہماری نظر سے گزرتے ہیں جن پر اداسی، کسی خلش، کسک اور نامرادی کا رنگ غالب ہوتا ہے، لیکن دسمبر کو رخصت کرنے کے ساتھ ہی ہم نئے سال کو خوش آمدید کہتے ہوئے اس کے لیے اپنی بانہیں کھول دیتے ہیں۔ اس لمحے یہ امید افزا اور دعائیہ اشعار ہمارے جذبات اور احساسات کی خوب صورت ترجمانی کرسکتے ہیں۔ اردو کے معروف شاعر فرخ اظہار کی یہ نظم پیشِ خدمت ہے۔

سالِ نو
ہے تمنّا کہ تجھ کو آج کا دن
ہر مسرت سے ہمکنار کرے
کھل اٹھیں پھول دل کے آنگن میں
تو اگر خواہشِ بہار کرے

مسکراہٹ لبوں پہ ہو رقصاں
سارا عالم تجھی سے پیار کرے
تجھ سے ہر رنج دُور ہو جائے
ہر خوشی تجھ پہ جاں نثار کرے

تیری رعنائیوں میں کھو جائے
غم کا سورج غروب ہو جائے
تیرے آنگن میں قافلے اتریں
جھلملاتے ہوئے ستاروں کے
ہو کے بے اختیار اٹھ جائیں
تیری جانب قدم بہاروں کے

ہر نئی صبح تیرے دامن میں
چاہتوں کے گلاب بھر جائے
ہر حسین شام اپنی رعنائی
تیرے خوابوں کے نام کر جائے
دیکھ کر تیرے رُخ کی شادابی
رنگِ قوس قزح نکھر جائے

مسکراتی سدا حیات رہے
تیرے قدموں میں کائنات رہے
پرتوِ غم نہ پڑ سکے تجھ پر
دل ترا شہر اِنبساط رہے

غم نہ دِل میں کبھی اجاگر ہو
شادمانی ترا مقدر ہو
آنے والے دنوں کی تابانی
جانے والے دنوں سے بڑھ کر ہو

Comments

یہ بھی پڑھیں