The news is by your side.

Advertisement

تری خوشبو نہیں ملتان سے جانے والی!

دل تو پہلے ہی جدا تھے یہاں بستی والو
کیا قیامت ہے کہ اب ہاتھ ملانے سے گئے

دنیا بھر میں جہاں کرونا کی وبا کے سبب عام میل جول متاثر ہوا، وہیں مصافحہ جیسی دیرینہ اور خوب صورت روایت بھی احتیاط کی نذر ہوگئی۔ ایمان قیصرانی کا یہ شعر اسی طرف اشارہ کرتا ہے، لیکن سماجی فاصلہ برقرار رکھنے اور اس احتیاط سے متعلق اپنے خیال کو شعر کے قالب میں‌ ڈھالتے ہوئے شاعرہ نے سماج میں‌ افراتفری اور انتشار پر بھی طنزیہ انداز میں‌ چوٹ کی ہے۔

ایمان قیصرانی کا تعلق ضلع ڈیرہ غازی خان کے مشہور قبیلے تمن قیصرانی بلوچ سے ہے۔ان کے والد بشیر احمد عاجز قیصرانی نعت گو شاعر تھے۔ یوں‌ ایمان کو علم و ادب سے لگاؤ اور شاعری کا شوق ورثے میں‌ ملا۔ ایم اے اردو اور ایم فل بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے مکمل کرنے کے بعد درس و تدریس سے وابستہ ہوگئیں۔

ایمان قیصرانی کی شاعری مضامینِ درد و الم سے مرصع ہے۔ ان کی شاعری انسانی جذبوں کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ ایمان کا کلام منفرد استعاروں اور تشبہیات سے آراستہ نظر آتا ہے۔ ان کے اشعار میں بھرپور نسائی شعور اور عورت کے جذبات کا توانا اظہار ملتا ہے۔

ایمان قیصرانی جامعہ کی سطح پر اردو کی تدریس کے ساتھ ادبی سرگرمیاں‌ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے دو مجموعہ کلام منظرِ عام پر آچکے ہیں۔ اس تعارف کے ساتھ ایمان قیصرانی کی یہ غزل ملاحظہ کیجیے۔

خطۂ یاد، نہ امکان سے جانے والی
تری خوشبو نہیں ملتان سے جانے والی

پھر کسی اور نے روکا ترا رستہ ویسے؟
پھر کوئی اور ملی جان سے جانے والی

بھول ہر وقت کے خدشوں کو، یقیں کر میرا
چھوڑ کر میں نہیں ایمان سے جانے والی

کوچۂ ہجر ہو یا دار، بتا لگتی ہوں؟
میں کہیں پر کسی فرمان سے جانے والی

تم نے دیکھی ہے وہ ضدی وہ بلوچن پگلی!
جان دے کر بھی نہ پیمان سے جانے والی

اس طرف جھیل نے روکا ہے تو دیکھو اس سمت
آخری بس بھی ہے کاغان سے جانے والی

وقت کہتا ہے چراغـوں کو منّور کر لو!
دھوپ ویسے بھی ہے دالان سے جانے والی

تجھ میں کیا عجز ہے ایمان یہ جھکنے والا
اس میں کیا بات ہے احسان سے جانے والی


شاعرہ: ایمان قیصرانی

Comments

یہ بھی پڑھیں