The news is by your side.

Advertisement

لوگوں کا کیا سمجھانے دو…..

محسن بھوپالی کا شمار اردو کے مقبول شعرا میں ہوتا ہے۔ ان کے متعدد اشعار کو ضربُ المثل کا درجہ حاصل ہے۔ یہاں ہم محسن بھوپالی کی ایک غزل آپ کے ذوقِ مطالعہ کی نذر کررہے ہیں، جسے پاکستان کی معروف گلوکارہ گلبہار بانو نے گایا اور یہ غزل بہت مشہور ہوئی۔

چاہت میں کیا دنیا داری، عشق میں کیسی مجبوری
لوگوں کا کیا سمجھانے دو ان کی اپنی مجبوری

میں نے دل کی بات رکھی اور تُو نے دنیا والوں کی
میری عرض بھی مجبوری تھی ان کا حکم بھی مجبوری

روک سکو تو پہلی بارش کی بوندوں کو تم روکو
کچّی مٹی تو مہکے گی ہے، مٹّی کی مجبوری

ذات کدے میں پہروں باتیں اور ملیں تو مہر بلب
جبرِ وقت نے بخشی ہم کو اب کے کیسی مجبوری

جب تک ہنستا گاتا موسم اپنا ہے سب اپنے ہیں
وقت پڑے تو یاد آ جاتی ہے مصنوعی مجبوری

مدت گزری اک وعدے پر آج بھی قائم ہیں محسنؔ
ہم نے ساری عمر نباہی اپنی پہلی مجبوری

Comments

یہ بھی پڑھیں