منگل, اپریل 14, 2026
اشتہار

اردو شاعری اور ماہِ رمضان کے قصیدے

اشتہار

حیرت انگیز

سید طاہر علی شاکرؔ کلکتوی اردو کے معروف شاعر گزرے ہیں جو علامہ رضا علی وحشتؔ کے شاگردوں میں سے ایک تھے۔

1910ء میں کلکتہ میں پیدا ہونے والے سید طاہر علی شاکر کی مادری زبان اگرچہ بنگلہ تھی لیکن اردو اور فارسی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ انھوں نے پندرہ سال کی عمر میں شعر کہنا شروع کیا اور ابتداً اس وقت کے مشہور شاعر اکملؔ سے اصلاح لینے لگے۔ بعد میں وحشت کلکتوی کے شاگرد ہوئے۔ شاکرؔ کلکتوی نے اپنے مذہبی رجحان اور ذوقِ عبادت کی مناسبت سے بھی شاعری کی ہے اور خاص طور پر رمضان کے بابرکت مہینے کو موضوع بنا کر قصیدے لکھے ہیں۔ رمضان کے مہینے کی عظمت اور اس کے احترام میں کی گئی اس شعاری کو ہم "رمضانی قصیدے” کہہ سکتے ہیں۔ انھوں نے اپنے دینی ذوق اور علم کے مطابق ماہِ رمضان کی آمد اور وداع تک کے مضامین کو ان قصائد میں سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔ چند دہائیوں پہلے تک یہ روایت رہی ہے کہ سحری میں جگانے والے حمد و نعت کے ساتھ قصیدے پڑھتے گلیوں سے گزرتے تھے۔ شاکرؔ صاحب نے لوگوں کو بامعنی اور نصیحت آموز قصیدے لکھ کر دیے۔

شاکرؔ کے رمضانی قصیدے میں حسن کے ساتھ بڑی حد تک غزل کی مہکتی ہوئی خوشبو بھی ملتی ہے۔ اُن کے کلام میں جہاں دیگر موضوعات کی فردانی ہے وہیں رمضانی قصیدہ نگاری کی دنیا میں ان کی جدت پسند طبیعت نے نئے نئے گل کھلائے، ان قصیدوں میں شاعر نے اسلام اور اس کے بنیادی اصولوں سے عقیدت و محبت رکھنے والوں کے لیے ایک تاریخ مرتب کر دی ہے۔ جب کوئی عشق حقیقی میں سرشار ہوتا ہے تو کیفیت کا یہ عالم ہوتا ہے کہ یاد محبوب کو خود سے کبھی جدا ہونے دینا نہیں چاہتا۔ یہاں یاد محبوب سے مراد ’’ماہ رمضان‘‘ جو شاکرؔ کی زندگی کا محور و مرکز ہے۔ جسے شاعر بے حد عزیز سمجھتا ہے۔ شاعر ماہ رمضان کی آمد کا انتظار اس طرح کرتا ہے جیسے کوئی حسین و جمیل محبوب کا انتظار کرتا ہو۔ محبوب کی آمد سے اتنی مسرت ہوتی ہے کہ وہ محبوب (ماہِ رمضان) کو عید سے تشبیہ دے کر اپنے فکر کے کینوس کو مزید وسیع کرتا ہے۔ شاعر بڑی ہی معصومیت سے کہتا ہے ۔

؎
تیرے آنے کی ایسی خوشی ہے
جیسے دنیا میں عید آج ہی ہے

سب کے چہروہ پہ اک تازگی ہے
آج سب کے لبوں پر ہنسی ہے

آج دنیا کے ظلمت کدے میں
تیرے آنے سے اک روشنی ہے

سر میں پھر ہے عبادت کا سودا
دل میں پھر خواہشِ بندگی ہے

تو ہی سب کچھ ہے اے ماہِ رحمت
دین تو ہی ہے دنیا تو ہی ہے

شکر کرتا ہوں شاکرؔ کہ مجھ کو
زندگی ازسرِ نو ملی ہے

شاعر ماہِ صیام کی رخصتی پر رنج و ملال کرتا ہے۔ ماہِ رمضان کے وداع پر مرجھا جاتا ہے جیسے کوئی عاشق اپنے محبوب کے ہجر میں سوکھ کر کانٹا ہو جاتا ہے۔ ’’رمضانی رخصتی قصیدوں‘‘ کو پڑھتے وقت عاشق و محبوب کے ہجر کا منظر سامنے آ جاتا ہے۔ شاعر اپنی بے کلی پر آنسو بہاتا ہے اور کہتا ہے

”وداع ماہ ِصیام ”

اے ماہ کرم فرقت میں تری مایوس ہو کیوں شیدا تیرا
کیادل میں نہیں ہے یاد تری کیا سر میں نہیں سودا تیرا
فرقت میں تری اے ماہ کرم رہتے ہیں مستِ مسرت ہم
ہے یاد نشاط انگیز تری ہے ذکر سرور افزا تیرا
بے سود ہے فکر اس کی اے دل بیکار ہے اس کا اندیشہ
جو عشق میں سب کا ہوتا ہے انجام وہی ہوگا تیرا
گو روک نہیں سکتا تجھ کو‘ جان اپنی تو دیدے سکتا ہے
مجبور ہے لیکن اتنا بھی مجبور نہیں شیدا تیرا
آیا ہے ابھی اور جانے کی کرتا ہے ابھی سے تیاری
اللہ رے اے ماہِ مضان آنا تیرا جانا تیرا
تو شوق بھری آنکھوں سے مری روپوش ابھی کیوں ہوتا ہے
جی بھر کے تو اب تک ماہ جبیں دیکھا ہی نہیں جلوہ تیرا
شاکر ہے مگر تو دیوانہ لیلائے صوم کا دیوانہ
بے وجہ نہیں یوں رہ رہ کر ہنسنا تیرا رونا تیرا

کہا گیا ہے کہ غزل جیسی صنف سخن قصیدے کے بطن سے پیدا ہوئی ہے۔ قصیدہ اور غزل کے ہئیت اور اسلوب دونوں ایک ہی ڈھانچے پر مشتمل ہے۔ شاعر نے کہیں کہیں ماہِ کرم، ماہِ صوم، مہِ ذیشان وغیرہ جیسے الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ اگر شاعر ایسے اشارے یا ایسے الفاظ استعمال نہیں کرتا تو شاید ایک روایتی غزل اور ایک رمضانی قصیدے کے درمیان حد بندی مشکل تھی۔ نمونہ کے طور پر چند اشعار پیش خدمت ہیں جن کے مطالعے سے آپ کو معلوم ہوگا کہ بظاہر محبوب ہی سے گفتگو کا انوکھا انداز ہے۔

میں فراقِ ماہِ صیام میں نہ تو چپ رہوں نہ فغاں کروں
مجھے چاہیے کہ حدیثِ غم بہ نگاہ یاس بیاں کروں
جو میں کام جذبۂ دل سے لوں تو یہ اختیار بھی ہے مجھے
کہ دکھا کے جلوہ جو چھپ گیا اسے پھر سے جلوہ کناں کروں
یہ خبر نہیں ہے مہ رواں کہ تو کس طرف کو ہوا رواں
میں پکاروں جا کے کدھر تجھے میں تلاش تجھ کو کہاں کروں
مہِ ذی کرم تو چلا گیا یہ بتا کہ شاکرِ ؔبے نوا!
ترا قصہ کس کو سناؤں میں ترا حال کس سے بیان کروں

شاکرؔ کلکتوی نے قصیدے کے علاوہ نعت و منقبت، سلام و نوحہ اور مختلف موضوعاتی نظموں پر بھی اپنے قلم کا جوہر دکھایا ہے۔

(بھارت سے تعلق رکھنے والی ریسرچ اسکالر رضیہ سلطانہ کے مضمون سے ماخوذ)

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں