The news is by your side.

Advertisement

شاہ عالم ثانی: بدنصیب مغل بادشاہ، مشّاق شاعر

مغل فرماں روا شاہ عالم ثانی نے اپنی سلطنت کو زوال کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا اور شاعری اور موسیقی سے دل بہلاتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوگئے۔ وہ فارسی اور اردو میں آفتاب اور بھاشا میں شاہ عالم تخلص کرتے تھے۔ شاہ عالم ثانی کو ایسا مغل بادشاہ کہا جاتا ہے جس نے لال قلعہ اور دربار میں شاعری کا سلسلہ شروع کیا اور اردو کو فروغ دی۔

وہ مشّاق شاعر تھے۔ ان کے اشعار میں پیچ داری، مشکل فقرے یا الفاظ اور دور از کار تشبیہیں نہیں ملتیں بلکہ رواں اور سیدھے سادے الفاظ میں‌ حالِ دل بیان کر دیتے تھے۔ یہاں ہم شاہ عالم ثانی کی ایک غزل باذوق قارئین کی نذر کررہے ہیں۔

عاجز ہوں ترے ہاتھ سے کیا کام کروں میں
کر چاک گریباں تجھے بدنام کروں میں

ہے دورِ جہاں میں مجھے سب شکوہ تجھی سے
کیوں کچھ گلۂ گردشِ ایّام کروں میں

آوے جو تصرّف میں مرے مے کدہ ساقی
اک دَم میں خموں کے خمیں انعام کروں میں

حیراں ہوں ترے ہجر میں کس طرح سے پیارے
شب روز کو اور صبح کے تئیں شام کروں میں

مجھ کو شہِ عالم کیا اس ربّ نے، نہ کیونکر
اللہ کا شکرانہ انعام کروں میں

Comments

یہ بھی پڑھیں