The news is by your side.

Advertisement

اردو شاعری میں قومیت اور مرزا غالب

ممتاز نقاد اور ادیب سید احتشام حسین کے مضمون سے ایک پارہ

اردو کے قدیم شعرا کے یہاں حبُ الوطنی کا تصوّر غور کرنے کی چیز ہے، کیوں کہ قومیت وطن سے وابستہ ہوتی ہے اور چاہے اس کا سیاسی تصور واضح نہ ہو، اخلاقی اور ملکی جذبہ اس سے ضرور ظاہر ہوتا ہے۔

قدیم اردو شعرا نے ہندوستان کی رسموں، تیوہاروں، عادتوں و غیرہ کا ذکر اس محبت اور خلوص سے کیا ہے کہ ان کی وطن دوستی کسی طرح مشکوک نہیں ہوسکتی۔

اردو کے سب سے پہلے بڑے شاعر قلی قطب شاہ نے بسنت اور برسات کے ترانے گائے ہیں۔ فائزؔ اور میرتقی میرؔ نے دلی اشنانوں، پنگھٹوں اور ہولی جیسے تیوہاروں کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے۔

نظیرؔ اکبرآبادی نے تو آگرہ متھرا کے تمام ہندو مسلمان تیوہاروں پر نظمیں لکھی ہیں۔

اس وقت ہندوستان کی غلامی اور آزادی کا مسئلہ سامنے نہیں تھا پھر بھی وہ وطنی چیزوں کا ذکر ضروری سمجھتے تھے کیوں کہ وہ اسی ملک کی خاک سے اٹھے تھے اور اسی سے بحث کرتے تھے لیکن میں اسے اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ قومیت کا اصل جذبہ سیاسی کشمکش ہی کی زندگی میں نمایاں ہوتا ہے اور نشوونما پاتا ہے۔

آزادی کا جذبہ ضرورت کے احساس سے پیدا ہوتا ہے۔ جب ہندوستان غلام بن گیا اور اس کو اس غلامی کا احساس بھی ہوا، اس وقت اس قومیت نے جنم لیا، جس نے معمولی چنگاری کی طرح ظاہر ہو کر جنگل کی آگ کی شکل اختیار کرلی اور غیرملکیوں کو ہندوستان سے نکل جانے پر مجبور کردیا۔ اس لیے اس جذبہ کے اصل نشوونما کا زمانہ غدر کے بعد سے قرار پائے گا۔

غدر بھی ایک انقلاب تھا لیکن وہ مٹتی ہوئی جاگیرداری کا تصادم تھا۔ نئی صنعتی طاقت سے، اس لیے شروع میں جو قومی جذبہ دکھائی دیتا ہے، اس میں انقلابی تصور کم ہے، جاگیردارانہ تمدن کی قدروں کے برباد ہونے کا غم زیادہ ہے۔ یہ بات فطری ہے کیوں کہ اس وقت تک عوام جاگیرداری کے زوال کی وجہ سے جس خراب حالت میں تھے، ان کے یہاں بدلتے ہوئے حالات کا بہت زیادہ احساس ہو بھی نہیں سکتا تھا۔

چناں چہ اگر ہم اس کی جھلک دیکھنا چاہیں تو غالبؔ کے اشعار میں دیکھ سکتے ہیں۔ وہ انگریزوں کے ہندوستان میں مسلط ہونے کی سیاسی اور تاریخی اہمیت کا اندازہ نہیں لگا سکتے تھے، لیکن جب ملک کی عزت اور خود داری کو غدر کے ہنگامے میں چوٹ لگی تو وہ بھی خاموش نہ رہ سکے اور انہوں نے اپنی مشہور غزل لکھی جس کے دو شعر ہیں:

گھر سے بازار میں نکلتے ہوئے
زہرہ ہوتا ہے آب انساں کا

چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے
گھر بنا ہے نمونہ زنداں کا

Comments

یہ بھی پڑھیں