منگل, جون 9, 2026
اشتہار

اپریل ۷۶ء:‌ جب ترقی پسند مصنّفین اکٹھے ہوئے

اشتہار

حیرت انگیز

اور آخر ہندوستان کی دلہن دلّی کا دل ۱۷ اپریل ۷۶ء کو جگمگا اٹھا۔ دلّی کا یہ دل جدید و قدیم تہذیبوں کا گنگا جمنی سنگم بستی نظام الدین کا علاقہ ہے جہاں ایک طرف عالیشان ماڈرن کوٹھیاں ہیں تو دوسری طرف پرانے طرز کے بنے ہوئے کچے پکے مکانات۔ جہاں ایک طرف ہر شام سڑکوں اور پارکوں میں رنگ و نور کا سیلاب امڈ آتا ہے جو پیاسی نظروں اور بیتاب دلوں کی تسکین کا باعث بنتا ہے۔ تو دوسری طرف روحانی فیض حاصل کرنے کے لیے حضرت نظام الدین اولیاء کا مزار مبارک ہے۔

دلّی کا یہ دل جہاں امیر خسروؔ اور غالبؔ جیسے فن کار اپنی اپنی آخری آرام گاہ میں محو خواب ہیں، جہاں چونسٹھ کھمبا نام کی پرانی شان دار عمارت ہے، وہیں ایک ماڈرن عمارت ’’غالب اکیڈمی‘‘ ہے۔

یہی دلّی کا دل ہے۔۔۔ جو آج ایک نئے انداز سے دھڑک رہا ہے جس میں ہماہمی ہے، چہل پہل ہے۔ زندگی رواں دواں نظر آرہی ہے۔ تابناک چہرے، ستاروں کے مانند چمکتی آنکھیں، پیار بھرے الفاظ، لوگ ایک دوسرے سے مصافحے کر رہے ہیں۔ گلے مل رہے ہیں، قہقہے، سرگوشیاں۔۔۔ آخر یہ کون لوگ ہیں؟

ان میں سے بہت سے لوگ ایک دوسرے کو جانتے بھی نہ تھے۔ شاید صرف نام سنا تھا۔ لیکن اب اس طرح مل رہے ہیں جیسے صدیوں سے شناسا ہوں۔ میں سڑک پر کھڑا اس منظر سے لطف لے رہا ہوں۔ ایک صاحب یہ رونق دیکھ کر مجھ سے سوال کرتے ہیں، ’’آج یہاں کیسا جلسہ ہو رہا ہے؟‘‘

میں دیوار پر لگے ایک بینر کی جانب انگلی اٹھا دیتا ہوں جس پر موٹے موٹے لفظوں میں لکھا ہے، ’’اردو کے ادیبوں کی کانفرنس اور سیمینار۔‘‘

سامنے ہی ڈاکٹر قمر رئیس، ڈاکٹر اجمل اجملی اور سردار جعفری بڑے انہماک سے گفتگو میں مصروف ہیں۔ غالب اکیڈمی کے چھوٹے سے دفتر میں ممتاز مرزا رسید بک اور قلم سنبھالے بیٹھی ہیں جو مندوبین سے پانچ روپے فی کس فیس وصول رہی ہیں اور ڈیلیگیٹ بیچ دے رہی ہیں۔ اندر ہال میں عصمت آپا، قرۃ العین حیدر، غلام ربانی تاباں اور کیفی اعظمی باتوں میں منہمک ہیں۔

بھوپال، امروہہ، لکھنو، کانپور، مالیگاؤں، بمبئی غرض کہ ہندوستان کے کونے کونے سے مندوبین آئے ہیں۔

ہلچل صرف دہلی میں ہی نہیں سارے ہندوستان میں ہے۔ ترقی پسند اذہان میں زندگی کی ایک نئی لہر دوڑی ہے۔ ترقی پسند اذہان میں زندگی کی ایک نئی امنگ پیدا ہوئی ہے۔ ہلچل مخالف صفوں میں بھی ہے۔ کئی دن سے نام نہاد جدید مصنفین سرگوشیوں میں مصروف ہیں۔ ان کے چہروں پر حیرت کے ساتھ خوف و ہراس کے آثار بھی ہیں۔ ترقی پسند قوتیں آج پھر نئے سرے سے اپنی تنظیم کرنے کے لیے غالب اکیڈمی میں اکٹھی ہوئی ہیں۔ مندوبین کا اجلاس شروع ہونے کا وقت ہوچکا ہے۔ تاباں ڈائس پر آچکے ہیں۔ اور مجلس صدارت کے ناموں کا اعلان کر رہے ہیں۔

میں بے چینی سے بار بار دروازے کی طرف دیکھ رہا ہوں۔ رحمان نیّر ایڈیٹر ماہنامہ روبی اور بیسویں صدی نے مندوبین کو فائلیں تقسیم کرانے کی ذمہ داری میرے سر ڈال دی ہے۔ فائلیں آچکی ہیں لیکن ان کا آدمی ابھی تک پیڈ اور قلم لے کر نہیں آیا ہے۔ مجلسِ صدارت کے ممبر عصمت چغتائی، قرۃ العین حیدر، ڈاکٹر محمد عقیل، کیفی اعظمی اور سردار جعفری اور استقبالیہ کمیٹی کے صدر آنند نرائن ملا اسٹیج پر پہنچ چکے ہیں۔ غلام ربانی تاباں، اجمل اجملی سے جنرل سکریٹری کی رپورٹ پڑھنے کو کہہ رہے ہیں۔

چھوٹے سے قد کے ہنس مکھ، ہینڈسم اور دل کے بیمار ڈاکٹر اجمل اجملی کس قدر باہمت شخص ہیں، ان کے دل میں کام کرنے کی کس قدر لگن ہے۔ چند دن ساتھ رہ کر مجھے اندازہ ہوا کہ یہ شخص گوشت پوست کا نہیں۔ فولاد کا بنا ہوا ہے۔ رپورٹ پڑھ رہے ہیں۔

اسی وقت مجھے رحمٰن نیّر کا چپراسی نظر آتا ہے۔ میں بھاگ کر باہر جاتا ہوں۔ فائلوں میں پیڈ اور قلم رکھنے میں کئی رضاکار مصروف ہوجاتے ہیں۔ کچھ رضاکار مندوبین کو ان کی کرسیوں پر ہی فائلیں تقسیم کرنے لگتے ہیں۔ میں ہال میں واپس آنا چاہتا ہوں کہ رئیس مرزا میرا راستہ روک لیتے ہیں۔

رئیس مرزا دلّی کی کلچرل سوسائٹی کی روح رواں ہیں۔ بیس پچیس سال پہلے کمیونسٹ پارٹی کا سنگنگ اسکواڈ دلّی اور قرب و جوار کے علاقوں میں بہت مشہور اور مقبول تھا۔ جس میں رئیس مرزا اور میں شامل تھے۔

آج رئیس مرزا مطبخ کے انچارج ہیں، یعنی مندوبین کے قیام و طعام کی ساری ذمہ داری ان کے سر ہے۔ کھانے کے خرچ کی ذمہ داری شہر کے چند ادب دوست اور صاحب استطاعت حضرات نے لی ہے، ایک وقت کے کھانے کا بندوبست میرے ایک کرم فرما ع۔ حامد صاحب نے کیا ہے۔ رئیس مرزا مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ حامد صاحب کس دن اور کس وقت کے کھانے کا بندوبست کرسکیں گے۔ میں ان سے وقت طے کر کے ہال میں داخل ہوتا ہوں، اس وقت سردار جعفری مندوبین سے مخاطب ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں۔۔

’’ابتدا سے ہی ترقی پسند تحریک اور تنظیم میں مختلف سماجی اور سیاسی نظریات رکھنے والے ادیب شامل رہے ہیں۔ اس کے اوّلین معماروں میں اگر ایک طرف پریم چند تھے جو بنیادی طور پر گاندھی وادی اور قوم پرست تھے تو دوسری طرف سید سجاد ظہیر تھے جو کھلے ہوئے اشتراکی تھے۔ تنظیم میں شامل ہونے والے ادیب وہی تھے جو اس کے مینی فیسٹو سے اتفاق رکھتے تھے۔ لیکن تنظیم کے باہر بہت سے ادیب اپنی تخلیقات میں ترقی پسند اقدار پر زور دے رہے تھے۔‘‘

دس پندرہ سال کے تعطل کے بعد تنظیم میں نئی روح پھونکنے کے سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے سردار جعفری مندوبین کو دعوت دے رہے ہیں کہ وہ تنظیم کی ضرورت اور اس کے نام کے بارے میں اپنی اپنی رائے کا اظہار کریں۔ وہ کہہ رہے ہیں،

’’اگر کل ہند تنظیم اسی نام سے بنائی جائے تو ایسی دوسری انجمنوں کو اس سے الحاق کی اجازت دی جائے جو کسی دوسرے نام سے لیکن ان ہی مقاصد کو سامنے رکھ کر کام کر رہی ہوں۔‘‘

سردار جعفری کی بات کچھ واضح نہیں تھی اس لیے قیصر شمیم، سرفراز عثمان اور میں نے کچھ اعتراضات کیے۔ سردار جعفری دوسری بار اسٹیج پر آئے اور اپنی بات کی وضاحت کی۔ اصل بحث کا آغاز قاضی عبدالستار نے کیا۔

چست پاجامہ، بھورے رنگ کی شیروانی، مسکراتی ہوئی آنکھوں پر عینک، پیچھے کو پلٹے ہوئے بال۔ قاضی عبدالستار ویسے تو بہت خوش مزاج ہیں لیکن اس وقت غصہ میں ہیں۔ ان کا چہرہ تمتمایا ہوا ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں،

’’مجھے افسوس ہے کہ علی گڑھ میں ترقی پسند مصنفین کی انجمن گزشتہ بیس سال سرگرمی سے کام کر رہی ہے۔ لیکن رپورٹ میں اس کا ذکر نہیں اور نہ اس کے بعض اراکین کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔‘‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ جن اراکین کا ذکر قاضی عبدالستار کر رہے ہیں ان میں ایک خود تاباں صاحب کے صاحبزادے ہیں۔ تاباں صاحب قاضی عبدالستار کے غصہ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور نہایت نرم اور سنجیدہ لہجہ میں ان کے اعتراضات کے جواب دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر قمر رئیس ایک طرف بیٹھے بڑی تیزی سے ’نوٹس‘ لے رہے ہیں۔ ذرا بھاری جسم، دراز قد آنکھوں میں ذہانت کی چمک، دلآویز نقوش کے مالک ڈاکٹر قمر رئیس گزشتہ پندرہ دن سے مسلسل بھاگ دوڑ میں مصروف ہیں جس کی تھکان چہرے کی اس تابناکی کی تہ میں محسوس کی جاسکتی ہے جو کانفرنس کے کام یاب افتتاح کے باعث ان کے چہرے پر جھلک آئی ہے۔ وہ مجھے دیکھ کر کہتے ہیں۔

’’اظہار۔۔۔ تمہیں اس کانفرنس کا رپوتاژ لکھنا چاہیے۔‘‘

’’میری خواہش بھی یہی ہے۔‘‘ میں جواب دیتا ہوں۔ ’’لیکن میرے سر پر بہت سی ذمہ داریاں ہیں ایسے میں مسلسل نوٹس نہیں لے سکوں گا۔ بعد میں آپ اپنی رپورٹ مجھے دے دیں تاکہ میں اپنی کمی پوری کرسکوں۔‘‘ قمر رئیس مجھے اپنی رپورٹ دکھانے کا وعدہ کر لیتے ہیں۔

ڈائس پر اب مجلس استقبالیہ کے صدر آنند نرائن ملا آچکے ہیں۔ دوسری صف میں احمد جمال پاشا اور ان کی بیگم بیٹھی ہیں۔ احمد جمال پاشا کی تحریروں کے ذریعہ ان سے غائبانہ تعارف ہے۔ اس کانفرنس میں پہلی بار ملاقات ہوئی ہے۔ چھوٹے سے قد اور گورے رنگ کے وجیہہ آدمی ہیں۔ خالص لکھنوی انداز میں گفتگو کرتے ہیں۔ نرم نرم دھیمے دھیمے لہجہ میں پائپ کے ساتھ ان کی شخصیت مشرق و مغرب کا سنگم نظر آنے لگتی ہے۔ میں ان کے برابر میں ایک کرسی پر بیٹھ جاتا ہوں۔ ملا صاحب کہہ رہے ہیں،

’’میرے نزدیک اپنے عہد کی قدروں کی ترجمانی کرنے والے ارتقا یافتہ ادب کا نام ترقی پسند ادب ہے۔ اسے بیشک ایک منظّم لیکن وسیع تحریک کی صورت دی جائے۔‘‘

’’ترقی پسند ادب ماضی و حال دونوں کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔‘‘

’’اردو ادب کی زندگی ترقی پسند ادب سے منسلک ہے۔‘‘

’’لیکن وہ فن کار جن کے فکر و فن میں زندگی ہوتی ہے۔ خواہ وہ اس انجمن سے متعلق ہوں یا نہ ہوں کیا ان کو کوئی مارسکتا ہے۔‘‘

’’اصل میں اوّلیت انسانی قدروں کو دینی چاہیے۔ چالیس سال میں ترقی پسند ادب میں تخلیق کم اور مخصوص سیاسی نظریہ کا اظہار زیادہ ہوا ہے۔ تحریک کو سیاسی رنگ دیا گیا ہے۔‘‘

’’چین کے حملے کے وقت ترقی پسند ادباء نے احتجاجی ادب تخلیق نہیں کیا۔‘‘

ملّا صاحب کو اردو سے والہانہ محبت ہے۔ وہ جج، شاعر اور ممبر پارلیمنٹ ہیں یعنی تین مختلف شخصیتوں کے مالک ہیں، لیکن کبھی کبھی جب ان کے اندر کا جج بیدار ہوتا ہے تو وہ بہت جلد فیصلے سناڈالتے ہیں۔ ڈاکٹر سید عقیل ملا صاحب کی آخری چند باتوں کا جواب دے رہے ہیں،

’’جاں نثار اختر کی نظم ’’ہم ایک ہیں‘‘ چین کے خلاف احتجاجی نظم تھی۔‘‘

لیکن وہ بھی صرف ایک حوالہ دے کر خاموش ہوگئے ہیں جب کہ مجروح کی غزل کا بھی حوالہ دیا جاسکتا تھا۔ اس کے علاوہ ’’پاک زمین ناپاک قدم‘‘ میں عشرت کرتپوری نے وہ تمام نظمیں اکٹھا کی تھیں جو چین کے خلاف اردو شعرا نے لکھی تھیں ان میں زیادہ تر ترقی پسند شاعر تھے۔ میری تین صفحات کی طویل نظم بھی اس مجموعے میں شامل ہے۔

ملّا صاحب کے دوسرے اعتراضات کا جواب دینے کے لیے سردار جعفری مائک پر آگئے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں،

’’ملا صاحب کی تقریر قوم پرستی کا جذبہ لیے ہوئے تھی۔ ترقی پسند تحریک کے ایک سرے پر قوم پرستی تو دوسرے سرے پر اشترکیت ہے اور ان کے درمیان ہزار رنگ۔۔۔‘‘

شعرا اور ادبا کو ایک مرکز پر اکٹھا کرنا ایسا ہی ہے جیسے مینڈک کو ترازو میں تولنا۔

’’تاہم تحریک کی جدید تنظیم میں ان نکات کا پورا پورا خیال رکھا جائے گا جن کی طرف ملا صاحب نے توجہ دلائی۔‘‘

اب مائک پر نیشنل پروگریسیو رائٹرز فیڈریشن کے جنرل سکریٹری اور ہندی کے مشہور ادیب بھیشم ساہنی آچکے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں،

’’زندگی اور انسانی قدروں پر ترقی پسند ادب کی بنیاد ہے۔۔۔ لہٰذا سماجی جدوجہد سے ادیب و شاعر کا منسلک ہونا بہت ضروری ہے۔‘‘

’’ہمارے بیسویں صدی کے ادب میں تین ادوار ہیں۔ پہلا دور اصلاح پسندی کا دور تھا۔ دوسرا تحریک آزادی کا اور آج کا تیسرا دور ملک میں سماج واد کی تعمیر کا دور ہے۔ اس دور کے بے شمار مسائل ہیں۔ ترقی پسند ادیب جن سے پہلو تہی نہیں کرسکتے۔‘‘

ملّا صاحب کے چند اعتراضات نے مندوبین میں جوش و خروش کی ایک لہر دوڑا دی۔ انیس جلالی شعلہ جوالا بنے مائک پر کہہ رہے ہیں۔

’’ملا صاحب نے انسانی قدروں پر زور دیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ انسانی قدریں کیا ہیں۔۔۔ کیا وہ تغیر پذیر سماجی نظام سے اور اس کی آویزش سے الگ اپنا کوئی وجود رکھتی ہیں۔‘‘

انیس جلالی نے اس الزام کی بھی تردید کی ہے کہ ترقی پسند ادیب تنگ نظر ہیں۔ ڈاکٹر سید محمد عقیل دوبارہ مائک پر ہیں اور کہہ رہے ہیں،

’’آج کے ادبی اور اجتماعی حالات تیس چالیس سال قبل کے حالات سے بہت مختلف ہیں۔۔۔ نئی پود کے ادیب دوسرے ڈھنگ سے سوچ رہے ہیں۔ آج ہمارا مینی ویسٹو ہی ہماری زندگی ہے۔۔۔ ترقی پسندی یہی ہے کہ ہم زندگی کو آگے بڑھانے والی قوتوں کا ساتھ دیں۔‘‘

کشمیری لال ذاکر اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ترقی پسند ادب کے ساتھ اردو زبان کی زندگی کا مسئلہ بھی جڑا ہوا ہے۔ اردو زبان کی تعلیم کا نظام درہم برہم ہوچکا ہے۔ ترقی پسند ادیبوں کو اردو زبان کی بقا کے لیے کچھ کرنا ہوگا۔

قرۃ العین حیدر تحریک کی نئی تنظیم سے بہت خوش ہیں۔ گہرے رنگوں کی پھولدار ساڑھی میں ملبوس۔ آنکھوں کے کونوں سے کاجل کی لکیریں جھانکتی ہوئیں، سلیقہ سے لپ اسٹک ہونٹوں پر سجائے وہ کہہ رہی ہیں،

’’آج واضح طور پر اردو ادب میں دو دھارے ہیں۔ ایک ترقی پسند فکر کا دھارا ہے۔ اور دوسرا بیمار ذہنیت کا دھارا۔ مجھے خوشی ہے کہ ترقی پسند تحریک کی نئے سرے سے تنظیم کی جارہی ہے۔ لیکن ہمیں تنگ نظری کے رویہ کو ختم کردینا چاہیے۔‘‘

کوثر چاند پوری بہت نستعلیق شخصیت ہیں۔ جب ملتے ہیں وہی سفید شیروانی، چست پاجامہ اور ہنستا ہوا چہرہ، وہی خلوص بھری مسکراہٹ۔ عمر ساٹھ کے لگ بھگ ہونی چاہیے لیکن چہرہ پر جوانوں جیسا جلال ہے۔

ان کے قلم میں بھی جلال ہے۔ اپنے بچپن سے کوثر صاحب کو پڑھتا چلا آرہا ہوں۔ وہ زمانے کے ساتھ چلنا جانتے ہیں وہ کہہ رہے ہیں۔۔۔ ’’ترقی پسند تحریک ایسا زبردست طوفان تھی جس نے ساری دنیا کے ادب کو متاثر کیا ہے۔ اور آج بھی اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔‘‘

کوثر صاحب کے بعد ڈاکٹر خلیق انجم اسٹیج پر پہنچ چکے ہیں۔ جو لوگ بحث میں حصہ لینا چاہتے ہیں وہ چٹوں پر اپنے اپنے نام لکھ کر مجھ تک پہنچا رہے ہیں اور مجھے بار بار اسٹیج پر جانا پڑ رہا ہے۔ خلیق انجم مائک پر کہہ رہے ہیں،

’’آج ترقی پسندوں کے سامنے یہ سوال ہے کہ اس کا مینی فیسٹو کیا ہو۔ رپورٹ میں جو باتیں کہی گئی ہیں وہ تقریباً وہی ہیں جو کانگریس بھی کہتی ہے۔‘‘

ڈاکٹر صدیق الرحمن قدوائی نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ ترقی پسند ادیبوں کی انجمن میں شامل ہونے والے ادیبوں کا کیا معیار ہونا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ کوئی ادیب چاہے تحریک میں شامل ہو یا نہ ہو لیکن ترقی پسند رجحانات کا حامل ہو تو ہمیں اس کو اپنا لینا چاہیے۔ اقبال مسعود، غلام جیلانی اور احمد فاطمی کو یہ شکایت ہے کہ کانفرنس میں زیادہ سے زیادہ نوجوان ادیبوں کو بلانا چاہیے تھا۔ لنچ کا وقت ہوچکا ہے۔ اب غلام ربانی تاباں مائک پر مندوبین کا شکریہ ادا کر رہے ہیں۔ شام کو پانچ بجے سے سمینار کے پہلے اجلاس کا اعلان کر رہے ہیں۔ رئیس مرزا پسینہ میں شرابور بھاگے ہوئے آئے ہیں اور دور سے مجھے بلانے کا اشارہ کر رہے ہیں۔ میں ان کے پاس جاتا ہوں وہ کہتے ہیں،

’’کھانے میں پندرہ منٹ کی دیر ہے، تم مہمانوں کو پندرہ منٹ بعد لے کر آنا۔‘‘

اجلاس ختم ہوچکا ہے۔ ایک بار پھر غالب اکیڈمی کے باہر کسی جشن کا سا سماں بندھ جاتا ہے۔ عصمت آپا سفید ساڑھی، سفید بالوں اور سیاہ عینک میں ادیب سے زیادہ سیاسی راہ نما نظر آرہی ہیں۔ بھوپال سے آئے ہوئے بلند قامت خوش رو، خوش لباس، اختر سعید بھی لیڈر لگ رہے ہیں۔

لوگ ٹکریاں بنائے باتوں میں مصروف ہیں۔ اجلاس میں بحثوں پر ابھی تک تبادلۂ خیال ہو رہا ہے۔ ایک کونے میں ڈاکٹر گوپی چند نارنگ، بلراج مین را اور باقی کھڑے باتیں کر رہے ہیں۔ قمر رئیس اچانک پیچھے سے آکر میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ دیتے ہیں۔

’’کھانے کا کیا ہوا بھائی‘‘

’’بس تیار ہے‘‘

’’تو مہمانوں کو لے چلو‘‘

مندوبین کے قیام کے لیے ایک کوٹھی خالی کرائی گئی ہے، جو غالب اکیڈمی سے مشکل سے ایک فرلانگ کے فاصلے پر ہے۔

باہر دھوپ کی تمازت ہے۔ اندر جذبات کی حدت ہے۔

(اظہار اثر اردو کے معروف شاعر اور سائنسی فکشن نگار تھے جن کے قلم سے یہ رپورتاژ نکلا ہے جس میں انھوں نے اہلِ قلم کے ایک بڑے جلسے کی لفظی جھلکیاں پیش کرتے ہوئے اپنے خیالات اور تاثرات کو بھی شامل کیا ہے)

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں