The news is by your side.

Advertisement

درزی اور فارسی ضربُ المثل (دل چسپ قصّہ)

ایں ہم برسرِ عَلم، فارسی کی ضرب المثل ہے۔ معلوم نہیں ایران میں بنی یا ہندوستان میں، مگر بولتے اردو میں بھی ہیں۔ ’’ترجمہ اس کا ہے، یہ بھی جھنڈے پر سہی۔

مطلب یہ کہ جہاں سو ہیں وہاں سوا سو سہی۔ جہاں ہزاروں گناہوں کی پوٹ سَر پر ہو، ایک گناہ اور سہی۔ قصّہ اس مثل کا یوں ہے کہ کہیں کی مسجد میں کوئی عالم وعظ فرما رہے اور نیکی و بدی دوزخ کا نقشہ دکھا رہے تھے۔

اسی ذیل میں امانت و خیانت، ایمان داری و بے ایمانی کا ذکر آگیا۔ مولوی صاحب نے بڑی بڑی موشگافیاں کیں۔ خوب خوب دادِ تحقیق دی۔ چوری کی ایک ایک کر کے ساری صورتیں بیان کیں۔ ہر ہر پیشہ اور ہنر والوں کے کرتوتوں کو گنوایا، ان کی کھلی ڈھکی چوریوں کو کھول کھول کر دکھایا۔ یونہی ہوتے ہوتے کہیں درزیوں کا ذکر آگیا۔ جناب نے ان کے خوب لتے لیے۔ ایسے بخیے ادھیڑے کہ کوئی ٹانکا لگا نہ رہنے دیا۔ گاہکوں کی بے اعتباری اور اس کے نتائج دنیا کے بے ثباتی، آخرت میں خرابی کو پھیلا پھیلا کر دکھایا۔

عقبیٰ کے عذاب، قیامت کے حساب کتاب سے ڈرایا اور یہاں تک فرمایا کہ یہ درزی چھوٹی بڑی چوریاں جتنی کرتے ہیں دنیا میں اگر چھپ بھی جائیں قیامت کے دن سب ’الم نشرح‘ ہو کر رہیں گی۔ یہ لوگ جب اﷲ تعالیٰ کے حضور میں حاضر ہوں گے۔ ایک بڑا سا عَلم ہر ایک درزی کے ہاتھ میں ہوگا اور اس پر عمر بھر کے چرائے ہوئے کپڑے، حتیٰ کہ ذرا ذرا سی کترنیں بھی، لٹکتے ہوں گے۔ ساری خدائی ان کی چوری کا یہ تماشا دیکھے گی اور درزیوں کی بڑی رسوائی ہوگی۔ جزا و سزا کا وقت آئے گا تو وہی سوئیاں، قینچیاں جن سے چوری کا کپڑا کاٹا اور سی سلا کر خود پہنا، بیچا یا اہل و عیال کو پہنایا تھا عذاب و ایذا کا آلہ بن جائیں گے۔

اتفاق سے اس مجلسِ وعظ میں کسی طرف کوئی درزی بھی بیٹھا تھا اور ممکن ہے کہ جناب مولوی صاحب نے اسی کو دیکھ دیکھ کر اپنی تقریر کا یہ پرداز ڈالا ہو۔ اس نے جو یہ چبھتی ہوئی حق لگتی ہوئی باتیں سنیں دل ہی دل میں بہت کٹا اور اسی وقت توبہ کی کہ چوری کے پاس نہ جاؤں گا اور بہت دنوں تک وہ اپنے اس عہد پر قائم بھی رہا۔ گاڑھا گزی، ململ لٹّھا، نینونین سُکھ معمولی کپڑوں کا کیا ذکر ہے اچھے اچھے ریشمی کپڑے، مخمل، اطلس، کام دانی، گل بدن کے تھان کے تھان اس کی دکان پر آتے، مگر کتر بیونت کے وقت کبھی اس کو ان میں سے کچھ کتر لینے کا خیال بھی نہ آتا۔

اتفاق کی بات ایک دن ایک گاہک آیا اور ایک بڑھیا سا تھان کپڑے کا لایا۔ دولھا کا جوڑا بننا تھا۔ وہ ناپ تول دے کر اپنی راہ گیا۔ استاد تھان لے کر بیٹھے الٹ پلٹ کر دیکھا، جی للچایا۔ منہ میں پانی بھر آیا۔ رال ٹپکنے لگی۔ دل نے کہا۔ اس میں تو کچھ بچانا ہی چاہیے۔ ایمان پکارا، خبردار، کیا کرتا ہے، توبہ نہیں کر چکا ہے؟

استاد نے تھان اٹھاکر ایک طرف رکھ دیا۔ مگر کپڑا سی کر دینا تھا جلدی، اس لیے پھر اٹھایا اور پھر وہی کش مکش شروع ہوئی، آخر پرانی عادت، نئی توبہ پر غالب آئی اور استاد نے کپڑا بچا لینے کا ڈھپ نکال کر فرمایا ایں ہم برسرِ عَلم۔ جہاں ہزاروں ٹکڑے کپڑے کے قیامت کے دن علم پر ہوں گے ایک یہ بھی سہی۔

یہ حکایت خدا جانے سچی ہے یا جھوٹی مگر یہ بالکل سچ ہے کہ عادت خاص کر بُری عادت موقع پاکر یونہی عود کرتی ہے اور یہ مثل ہمیں یہی سبق دیتی ہے۔

(1938ء کے ’ساقی‘ سے انتخاب جس کے مدیر صاحبِ اسلوب ادیب شاہد احمد دہلوی تھے)

Comments

یہ بھی پڑھیں