The news is by your side.

Advertisement

ایک اور ڈر کا جنم

مریل سے کلرک نے جیب سے مہینے بھر کی تنخواہ نکال کے چارپائی پر رکھی اور سرہانے کے نیچے سے لین داروں کی فہرست نکالی، جمع تفریق کے بعد اس کے پاس صرف پچاس روپے بچے تھے اور پورے اکتیس دن آگے کھڑے تھے۔

کمرے میں وہ اکیلا تھا، بچوں کی ضرورتیں اور بیوی کی حسرتیں فلم کی ریل کی طرح اس کی آنکھوں سے گزرنے لگیں۔ بیوی کی مطلوبہ چیزوں پر لکیر پھیرتے ہوئے اسے تھوڑی تکلیف ہوئی، لیکن اسے احساس تھا کہ ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا ہے۔

ششی کی اَدھ گھسی پتلون نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، پھر پپی کے ٹوٹے ہوئے جوتے نے ایک جھٹکے سے اس کا دھیان اپنی طرف کھینچ لیا۔ ابھی وہ کوئی فیصلہ نہیں کر پایا تھا کہ بیوی اندر آگئی اور پچاس کا ٹوٹ اٹھا کر بولی۔

“مجھے نہیں پتا، یہ تو میں نہیں دوں گی۔”

“ارے میری بات تو سنو۔”

“بالکل نہیں۔”

“سردیاں شروع ہوگئی ہیں اور پپی…..” اس کی بات سنی ہی نہیں‌ گئی اور بیوی نے کہا۔

“پپی کے جوتے سے زیادہ ضروری آپ کی دوا ہے۔”

وہ کچھ نہ بول سکا۔ اس نے گلے سے اٹھتی ہوئی کھانسی جبراً روک لی کہ اسے کھانستا دیکھ کر بیوی ڈاکٹر کو بلانے نہ چلی جائے۔

مصنف: نامعلوم

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں