The news is by your side.

Advertisement

انسان سے نہیں، انسان کو جیتنا سیکھو!

تحریر: سردار فہد

“یہ ہوس کا زمانہ ہے بابا جی، محبت کا نہیں۔ ضرورتیں کچھ دیر کے لیے کدورتوں کی اوٹ سے جھانکتے ہوئے محبت کے دو بول بولتی ہیں اور پھر کدورتوں کے پیچھے چھپ جاتی ہیں۔”

میں نے گِلہ کیا تو بابا جی کے ہونٹوں کی مسکراہٹ نے میری دلیل کو جھٹ سے رد کر دیا۔ وہ بولے۔

“بیٹا ! نہ ملنے کا گِلہ تو وہی کرتے ہیں جو کچھ دینا نہیں جانتے یا دینا نہیں چاہتے۔

یاد رکھو! محبت اور عزت دینے سے ملتی ہے۔ یہ تو دیوار پر پھینکی ہوئی گیند کی طرح ہوتی ہے۔ جتنی قوت سے پھینکو گے اتنی قوت سے واپس تمہارے ہاتھوں میں آئے گی۔ بیٹا! دینا سیکھو۔ اوپر والا دس گنا کر کے لوٹائے گا۔ چاہے وہ محبت ہو یا عزت۔”

“لیکن بابا! ایسے لوگ بھی تو ہیں جو اس قابل ہی نہیں کہ انہیں عزت دی جائے یا ان سے محبت کے بول بولے جائیں۔ بعض اوقات تو انسان کو خود پہ ترس آتا ہے کہ جس شخص کو اس نے اتنی محبت دی وہی شخص جب دغا کرنے پر آیا تو قرعہ بھی اسی کا نام نکلا جس نے اسے دل کے قریب تر رکھا تھا۔

اور جس شخص کو عزت کی پگ پہنا کر وہ اس کا قد اونچا کرتا رہا اسی شخص نے اسے بونا سمجھنے میں دیر نہیں کی۔” غیر ارادی طور پر میرے منہ سے نکلا تو بابا جی کے چہرے کی مسکان غائب تھی۔

“بیٹا ! رب کی بنائی ہوئی کوئی چیز بھی حقیر نہیں، بدصورت نہیں، کمتر نہیں ہے اور بے کار نہیں ہے۔ انسان تو ہے ہی اشرف المخلوقات اور انسان کو میرے اللہ نے بہت ہی خوب صورت بنایا ہے، اور ہر انسان کی مٹی میں محبت، اخلاق اور اخلاص کی خوش بُو ملائی ہے لیکن انسان ہی اپنے اندر کے شیطان کو اس قدر اختیار دے دیتا ہے کہ وہ اس کے اندر کی خوش بُو کو اپنی غلاظت بھری پوٹلی میں قید کرسکے، لیکن کبھی کسی باغ میں کانٹے کو دیکھا ہے؟”

“کانٹے کو؟ باغ میں تو لوگ پھول دیکھتے ہیں بابا۔” مجھے حیرانی ہوئی۔

“ہاں ! پھول ہی تو دیکھتے ہیں۔ ان کی خوش بو انہیں اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ ان کی رنگت اور نازکی انہیں مسرور کرنے لگتی ہے۔ اور وہ اسے ہونٹوں سے لگا لیتے ہیں۔ کانٹے تو جب ان کی انگلیوں میں چبھنے لگیں تو تبھی انہیں کانٹوں کے وجود کا احساس ہوتا ہے۔

لیکن اگلی بار باغ میں جاؤ تو کانٹوں کے لیے جانا۔ انہیں محبت سے دیکھنا۔ ان کے اندر کی خوب صورتی کو محسوس کرنا۔ اور میری مانو تو انہیں ہونٹوں سے بھی لگا لینا۔ وہ اپنے اندر کی ساری نرمی تمہارے اس پیار کے صدقے تم پر نچھاور کر دیں گے۔ اور آزما لینا۔۔۔۔ ایسا سکون ملے گا جو پھولوں کی نازکی میں کہاں۔

بیٹا! انسان بھی سخت ہو جاتے ہیں، کانٹوں کی طرح۔
انہیں محبت نرم کرتی اور ایسا نرم کرتی ہے کہ پھر پھول جیسے نرم دل لوگوں کو بھی پیچھے چھوڑ دے۔ بہت پیچھے۔”

میں بابا جی کو محبت بھری نظروں سے دیکھنے لگا۔ ان کے چہرے کی جھریوں میں نور چمکتا نظر آنے لگا۔ اور میری آنکھوں میں وہ نور اترنے لگا جو ہر سختی کو پگھلاتا ہوا کسی بھی چیز کو موم بنانے کی طاقت رکھتا ہو۔ جو انسان سے جیتنے کے بجائے انسان کو جیتنے کا ہنر جانتی ہوں۔ جو دلوں کی حکم رانی کا خواب دیکھنے لگی ہوں۔

 

(مصنف کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے، شاعر ہیں، کہانیاں لکھتے ہیں اور مختلف سماجی موضوعات پر اظہارِ خیال کرنے کے لیے بلاگ کا سہارا لیتے ہیں)

Comments

یہ بھی پڑھیں