The news is by your side.

رانی کی الجھن

رانی نواب صاحب کی لاڈلی بیٹی تھی۔ ویسے تو سبھی لوگ رانی کو چاہتے تھے لیکن رانی کو انسانوں سے زیادہ جانوروں سے لگاؤ تھا۔ جانوروں میں بھی اسے جنگلی جانوروں سے بڑی دل چسپی تھی۔

اس کی حویلی سے لگ کر ایک ندی بہتی تھی۔ ندی کے اس پار جنگل تھا جس میں بہت سے جانور رہتے تھے۔ رانی گھر والوں سے نظر بچا کر اکثر اس جنگل میں چلی جاتی۔ وہ جنگلی جانوروں اور پرندوں کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتی اور ان کی آواز کی نقل کرتی۔

ایک دن اس نے ندی کے پُل پر سے کیا دیکھا کہ کچھ جنگلی کتّے ہیں جنہوں نے ایک چیل کو پکڑ رکھا ہے اور آپس میں چھینا جھپٹی مچا رکھی ہے۔ اس کھینچا تانی میں چیل ان کے چنگل سے چھوٹ گئی۔ وہ اوپر اڑی اور چاہتی تھی کہ ندی پار کر کے بستی کی طرف نکل جائے۔ لیکن وہ اڑتے اڑتے پل پر آکر گری۔ رانی چیل کی طرف دوڑ پڑی اور اسے گود میں اٹھا لیا۔ رانی نے چیل کے پروں کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔ وہ بری طرح زخمی ہوگئی تھی۔ رانی نے دیکھا کہ اس کے پَر کچھ نئی قسم کے رنگ برنگے اور پٹے دار ہیں۔ اس نے سوچا، جنگل کی چیل شاید ایسی ہوتی ہوگی، بڑی خوب صورت ہے، میں اسے پال لوں گی۔

پھر رانی نے اپنے خاندانی حکیم کے ذریعے چیل کے زخموں کا علاج کروایا۔ علاج میں کافی دن نکل گئے۔ رانی اور چیل اتنے دنوں میں ایک دوسرے سے خوب ہل مل گئے۔ رانی نے چیل کا نام چبری رکھ دیا تھا۔ چبری اڑ تو پاتی نہیں تھی، ہاں رانی جب اسے چبری کہہ کر پکارتی تو چیل پیروں سے چل کر رانی کے پاس چلی آتی اور آکر اس کی گود میں بیٹھ جاتی۔ رانی چبری کو اپنی سہیلیوں سے بڑھ کر سمجھنے لگی تھی۔

کچھ دنوں میں چبری پوری طرح ٹھیک ہوگئی۔ اب رانی چاہتی تھی کہ چبری اڑنے بھی لگ جائے۔ وہ اسے ہش ہش کر کے دوڑاتی، جواب میں چبری اپنے پروں کو پھڑ پھڑا کر اڑتی لیکن تھوڑی دور جاکر پھر زمین پر اتر آتی۔

ایک دن کی بات ہے۔ رانی کے بڑے بھائی کی شادی کا موقع تھا نواب صاحب کے باغیچے میں مہمانوں کا ہجوم تھا۔ بہت سے لوگ چیل اور رانی کا کھیل دیکھ رہے تھے۔ رانی چیل کو دوڑا رہی تھی۔ چیل کبھی اڑ کر دور چلی جاتی اور کبھی واپس آکر رانی کے کندھے پر بیٹھ جاتی، پھر ایک مرتبہ جب رانی نے دوڑ کر چبری کو ہشکارا تو وہ اڑ کر باغیچے کے ایک درخت پر جا بیٹھی۔ رانی کی خوشی کا ٹھکانا نہ رہا۔ وہ اچھل اچھل کر تالیاں بجانے لگی۔ رانی کے ساتھ مہمان بچوں نے بھی خوشی سے تالیاں پیٹیں۔

چبری نے درخت پر سے آسمان کی طرف نظر دوڑائی۔ دیکھا کہ کوّے اور بگلے اس کے سر پر سے اڑ کر چلے جا رہے ہیں۔ چبری نے اپنے پر پھیلائے وہ بھی اڑی اور کوؤں کے پیچھے پیچھے اڑ کر چلی۔ اڑتے اڑتے وہ دور نکل گئی اور نظر سے اوجھل ہوگئی۔

رانی کو امید تھی کہ چبری واپس پلٹ کر آئے گی لیکن وہ پھر واپس نہیں آئی۔ اس بات کا رانی کے دل کو بڑا دھچکا لگا۔ وہ اس رات سوئی نہیں اور روتی رہی۔ اس دن اسے اپنی نئی بھابھی کے آنے کی اتنی خوشی نہیں تھی جتنا چبری کے چلے جانے کا غم تھا۔

جنگلی جانوروں پر سے رانی کا بھروسہ اٹھ گیا۔ اب یا تو وہ اپنے باڑے کے جانوروں کے ساتھ کھیلتی یا اپنی سہیلیوں کے ساتھ۔ مگر جب بھی وہ آسمان میں اڑتے ہوئے پرندوں کو دیکھتی، اسے چبری کی یاد آجاتی اور وہ کچھ دیر کے لیے اداس ہو جاتی۔

ایک مرتبہ وہ اپنی ایک سہیلی کے ساتھ جنگل میں پہنچی۔ صندلیں رنگ کا ایک خرگوش اس کے اگے سے پھدکتا ہوا بھاگا۔ دونوں سہیلیاں اس خرگوش کے پیچھے دوڑنے لگیں۔ ایسا خوش رنگ اور خوب صورت خرگوش رانی کے باڑے میں نہ تھا۔ دونوں سہیلیاں خرگوش پکڑنے کی دھن میں دوڑتی رہیں لیکن انہیں اس بات کی خبر نہیں تھی کہ ایک کالی ناگن ان دونوں کے پیچھے دوڑتی ہوئی چلی آرہی ہے۔

دوڑتے دوڑتے رانی نے دیکھا کہ ایک پرندہ اڑتا ہوا بجلی کی سی رفتار سے ان دونوں کی طرف اتر رہا ہے۔ رانی نے غور کیا کہ یہ تو اپنی چبری ہے جو شاید اسی کے پاس آرہی ہے۔ رانی الجھن میں پڑ گئی کہ وہ ہنسے یا روئے، چبری رانی کے پیچھے کی طرف آکر اتری۔ قریب تھا کہ ناگن ان دونوں میں سے کسی کو ڈس لیتی۔ چبری نے ایک جھپٹا مارا اور اس ناگن کو اپنے پنجوں میں اٹھا لیا۔ اپنے پیچھے ناگن کو دیکھ کر دونوں سہیلیاں سکتے میں آگئی تھیں۔ چبری ناگن کو اٹھا کر اڑتی ہوئی آگے چلی۔ وہ ناگن کو لے کر دور ہوتی گئی اس کے ساتھ ہی چبری پر رانی کا غصہ کافور ہوتا گیا۔ جانوروں کے بارے میں اس کی الجھن دور ہوگئی اب وہ ہر حال میں خوش رہنے لگی تھی۔

(مصنّف: م ن انصاری)

Comments

یہ بھی پڑھیں