The news is by your side.

Advertisement

استاد کی شکست (ایک سبق آموز کہانی)

کسی اسکول کے طلباء ایک روز کرکٹ کے میدان میں‌ جمع تھے۔ انھیں اچانک خیال آیا کہ کیوں نہ اپنے استاد کو بھی میدان میں اترنے کی دعوت دیں، کیوں کہ وہ کرکٹ کے کھیل کا بہت شوق رکھتے تھے اور انھیں کئی ملکی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کے ریکارڈ اور ان کے بارے میں بہت سی معلومات بھی تھیں۔ طلباء دیکھنا چاہتے تھے کہ ان کے استاد خود کتنے اچھّے کھلاڑی ہیں۔

چند لڑکے اپنے استاد کے پاس گئے اور انھیں کہا، سَر آج آپ ہمارے ساتھ کرکٹ کھیلیں۔ استاد نے فوراً ہامی بھر لی اور ان کے ساتھ میدان میں چلے آئے۔

کھیل شروع ہوا تو دیگر کلاسوں کے طلباء بھی میدان میں اکٹھے ہوگئے۔ چوں کہ بچّے اپنے اساتذہ سے بہت محبّت کرتے ہیں اور اپنے درمیان ان کی موجودگی اور دوستانہ تعلق انھیں زیادہ پُرجوش اور جذباتی بنا دیتا ہے، اسی لیے آج سب کی توجہ استاد پر تھی۔ پانچ گیندوں پر استاد نے صرف دو رن بنائے اور چھٹی گیند پر کلین بولڈ ہو گئے۔ طلباء نے شور مچا کر بھرپور خوشی کا اظہار کیا۔

دوسرے دن کلاس میں استاد نے پوچھا کون کون چاہتا تھا کہ وہ مجھے ضرور آؤٹ کرے؟

سب بولروں نے ہاتھ کھڑے کر دیے۔ استاد مسکرائے اور پوچھا، یہ بتاؤ میں کرکٹر کیسا ہوں..؟

سب نے یک زباں ہوکر کہا ،بہت برے۔

پوچھا، اچھا میں استاد کیسا ہوں۔

جواب ملا بہت اچھے۔

استاد نے ہنستے ہوئے کہا، صرف آپ نہیں آپ سے پہلے بھی میں نے جن بچّوں کو پڑھایا اور آج وہ عملی زندگی کا آغاز کرچکے ہیں، سب مجھے ایک اچھا استاد مانتے ہیں۔ آج میں راز کی ایک بات بتاؤں کہ میں جتنا اچھا استاد ہوں، اتنا اچھا طالبِ علم کبھی نہیں رہا۔ مجھے ہمیشہ سبق یاد کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور بات سمجھنے میں وقت لگتا تھا لیکن کیا آپ بتا سکتے ہیں اس کے باوجود مجھے اچھا استاد کیوں مانا جاتا ہے..؟

سَر آپ بتائیں، ہمیں نہیں معلوم، طلباء نے کہا۔

اس پر استاد نے انھیں ایک واقعہ سنانا شروع کیا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے ایک دن میں اپنے ٹیچر کے گھر دعوت کی تیاری میں ان کی مدد کر رہا تھا۔ فریزر سے برف نکالی، جسے توڑنے کے لیے کمرے میں کوئی چیز نہیں تھی۔ استاد کام کے لیے کمرے سے نکلے تو میں نے مکا مار کر برف توڑ دی اور استاد کے آنے سے پہلے جلدی سے ٹوٹی ہوئی برف دیوار پر بھی دے ماری…

دوستو، آپ سوچ رہے ہوں گے کہ جب میں برف توڑ چکا تھا، تو پھر یہ حرکت کرنے کی کیا ضرورت تھی، اس کا جواب آپ کو ابھی مل جائے گا۔

استاد کمرے میں آئے تو وہی محسوس کیا جو میں چاہتا تھا، انھوں نے دیکھا کہ میں نے برف دیوار پر مار کر توڑی ہے۔ مجھے ڈانٹنے لگے اور کہا کہ تمہیں عقل کب آئے گی، یوں برف توڑی جاتی ہے، میں نے ان کی ڈانٹ خاموشی سے سنی اور وہ دن گزر گیا۔ بعد میں انھوں نے میری اس بیوقوفی کا ذکر کئی جگہ کیا۔ لیکن یہ راز آج تک نہیں جان سکے کہ برف تو میں نے اپنی جسمانی طاقت سے ہاتھوں کا استعمال کرتے ہوئے توڑی تھی ۔

یہ بات میں نے انھیں اس لیے نہیں بتائی کہ وہ ایک ہاتھ سے معذور تھے۔ ان کی غیر موجودگی میں، میں نے جوانی کے جوش میں مکا مار کر برف توڑ دی، لیکن جب ان کی معذوری کا خیال آیا تو سوچا کہ کہیں میرے طاقت کے مظاہرے سے انھیں احساسِ کمتری نہ ہو، اس لیے میں نے برف دیوار پر مارنے کی احمقانہ حرکت کی اور کئی سال تک ان کی ڈانٹ سنتا رہا۔

جب میں‌ آپ کے درمیان میدان میں موجود تھا اور بیٹنگ کر رہا تھا، تو میں نے غور کیا کہ آپ سب ایک دوسرے کو چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ سَر کو آؤٹ کرو۔ یاد رکھو جیتنا سب کچھ نہیں ہوتا، کبھی ہارنے سے بھی زندگی میں جیت کے رستے کھلتے ہیں۔ آپ طاقت میں اپنے اساتذہ اور والدین سے بے شک آگے بڑھ جاتے ہیں، لیکن زندگی میں کبھی اپنے اساتذہ اور والدین کو ہرانے کی کوشش مت کیجیے گا۔ اللہ پاک آپ کو ہر میدان میں سرخرو کرے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں