The news is by your side.

Advertisement

کاش آپ نے ہماری بات مانی ہوتی!

دولت مند ملکوں میں مشوروں کی قیمت ہوتی ہے۔ کیوں کہ وہاں بچّے کم پیدا ہوتے ہیں، اس لیے بوڑھے بھی کم پائے جاتے ہیں۔ نہ گلی کے نکّڑ پر چبوترے ہوتے ہیں نہ سرکاری نَل۔ نہ پان کی دکانیں، نہ عبادت خانوں میں مشاورت کی فرصت۔ اس لیے وہاں مشیروں کی پیداوار بہت کم ہے۔

چناں چہ لوگ مشورہ کرنے کے لیے متعلقہ کونسلر یا کنسلٹنٹ سے رجوع کرتے ہیں اور باضابطہ فیس ادا کرتے ہیں۔

اگر ہم اپنے ملکوں سے ان تمام چبوتروں پر بیٹھنے والوں اور دکانوں کے باہر کھڑ ے ہوئے تیار جاسوس حضرات کو جو ہر آنے جانے والے کے شجرہ نسب اور ہر ظاہر و باطن کے بارے میں گفتگو کرتے رہتے ہیں، امریکا یا یورپ بھیج دیں تو نہ صرف ان کی بیکاری دور ہو جائے بلکہ ان ملکوں کا نقشہ ہی بدل جائے۔

وہاں کے سارے برسرِ روزگار کنسلٹنٹ چند مہینوں میں بے روزگار ہو جائیں۔ مشوروں کی قلت کا یہ عالم ہے کہ ہر قسم کی معمولی بات کے لیے مشورہ دینے والا الگ اور اس کی فیس بھی الگ۔

شادی کے لیے مشورہ، طلاق کے لیے مشورہ، بچّوں کی تربیت کے لیے مشورہ۔ یہی نہیں بچّے پیدا کرنے کے لیے بھی مشورہ۔ سَر درد ہو کہ پیٹ کا درد، کینسر ہو کہ ایڈز غرض یہ کہ ہر معاملے کے لیے ایک مخصوص مشورہ دینے والا ہو گا۔

وہاں بغیر مانگے مشورہ دینے والے کو، لوگ پاگل سمجھتے ہیں اور نہ چلتے پھرتے مشورہ دینے یا لینے کے قائل ہیں۔ اس لیے کونسلر حضرات جب تک ایک آ فس یا مطب کرایہ پر نہ لے لیں، مشورے بھی نہیں دیتے اور الحمدُللہ ایک ہماری سوسائٹی ہے کہ ہر شخص نام و نمود سے بے نیاز بغیر کوئی صلے یا فیس کے نکّڑ پر ہو کہ دیوان خانے میں۔ دکان پر ہو کہ مسجد میں ہر جگہ اپنی زنبیل میں مشوروں کا انبار لیے پھرتا ہے۔ اور لوگوں کو مشوروں سے مالا مال کر سکتا ہے۔

یہ حضرات قلندرانہ صفات کے حامل اتنے غنی اور سخی ہوتے ہیں کہ ان کا مشورہ آپ نہ بھی مانیں تو برا نہیں مانتے۔ البتہ اُس وقت کا انتظار ضرور کرتے رہتے ہیں جب آپ کے ساتھ کوئی ناگہانی واقعہ ہو جائے۔ یہ فوری آپ کا جی جلانے پہنچ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کاش آپ نے ہماری بات مان لی ہوتی۔

آپ کو یقین نہ آئے تو جہاں دو چار افراد جمع ہوں وہاں ذرا آپ سَر پکڑ کر بیٹھ جایئے یا ذرا سا چھینک کر یا کھانس کر دیکھیے۔ نہ صرف وہاں موجود حضرات بلکہ کوئی راستہ سے گزر رہا ہو تو وہ بھی رک کر ایک آدھ مشورے سے ضرور نوازے گا اور آپ کو یقین ہو جائے گا کہ آپ واقعی بیمار ہیں۔

کیا کوئی صحت مند ان مشوروں کی تاب لا سکتا ہے؟
ایک صاحب کہیں گے:
“آپ کی طبیعت خراب لگتی ہے، کوئی گولی فوری لے لیجیے، صبح تک آرام ہو جائے گا۔”
دوسرے صاحب:
“گولیوں سے ری ایکشن کا خطرہ رہتا ہے، جوشاندہ لیجیے، دیر سے سہی لیکن دیر پا آرام ہو جائے گا۔”
تیسرے صاحب:
“دو دن سے میری بھی طبیعت خراب تھی۔ ہومیو پیتھی سب سے بہترین ہے، دیکھیے میں کیسا ٹھیک ٹھاک ہوں۔”

چوتھے صاحب آپ کے پان یا سگریٹ پر غصہ نکالیں گے۔ تو پانچویں صاحب آپ کو موت سے ڈرائیں گے اور تنبیہاً آپ کو علاج میں دیر کرنے کے نتیجے میں مر جانے والوں کے ایسے ایسے قصّے سنائیں گے کہ رات بھر قبر میں جانے کا خوف آپ کی نیند حرام کر دے گا۔

مشوروں کی یہ پانچویں قسم سب سے زیادہ کارگر ہوتی ہے، کیوں کہ مشورہ دینے والے نے احتیاطی تدابیر کے طور پر مشورہ نہ ماننے کے درد ناک انجام سے بھی باخبر کر دیا۔

(علیم خاں فلکی کی مزاحیہ تحریر سے چند پارے)

Comments

یہ بھی پڑھیں