The news is by your side.

Advertisement

حقائقِ اشیا اور حاصلِ زندگی

جو چیز جس قدر حقیقی اور واقعی ہے، اسی قدر غیر محسوس اور غیر مشاہد ہے۔ آج کل کے مذاق کے موافق اس کو یوں سمجھو کہ سب سے یقینی اور قطعی چیز مادّہ ہے، لیکن زیادہ غور کرو تو معلوم ہوتا ہے کہ مادّے میں سے جو چیز محسوس اور مشاہد ہے، وہ صرف رنگ اور مقدار ہے۔ باقی کوئی چیز حواس سے محسوس نہیں ہوسکتی۔

ہم قیاس کرتے ہیں کہ چوں کہ رنگ اور طول و عرض خود نہیں قائم ہوسکتے، اس لیے کوئی اور چیز ہے جس میں رنگ اور طول و عرض قائم ہے، لیکن جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ جوہر خود کوئی چیز نہیں، بلکہ چند عرضوں کا مجموعہ ہے، وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ مادّہ کوئی چیز نہیں، چند اغراض جمع ہوگئے ہیں جن کو ہم مادّہ کہتے ہیں۔ غرض کسی چیز کے موجود ہونے کا مدار صرف محسوس اور مشاہد ہونے پر نہیں۔

اجمالی طور پر جب یہ ذہن نشیں ہو جاتا ہے کہ حقائقِ اشیا میں ہم غلطی کرسکتے ہیں اور کرتے ہیں، تو حضراتِ صوفیہ خاص خاص چیزوں کی نسبت جن سے تصوف کو تعلق ہے، تلقین کرتے ہیں کہ ان کی وہ حقیقت نہیں، جو عام لوگ سمجھتے ہیں۔ مثلاً تمام عالم اس پر متفق ہے کہ زندگی کا اصلی مقصد حصولِ لذّت ہے۔ حضراتِ صوفیہ بھی اسی کے قائل ہیں، لیکن وہ کہتے ہیں کہ پہلےاس کا فیصلہ کرنا چاہیے کہ اصلی لذّت کیا ہے؟

شروع سے لو۔ بچہ کھیل کود، آلات لہو و لعب، رنگین اور ملمع چیزوں کو پسند کرتا ہے۔ بڑا ہو کر سمجھتا ہے کہ یہ طفلانہ مذاق تھا۔ اب خوش لباسی، عیش پرستی، سیر و تفریح پر جان دیتا ہے۔ جب معلومات اور خیالات میں اور ترقی ہوتی ہے تو سمجھتا ہے کہ یہ جوانی کی ترنگیں تھیں، اب ان کا وقت نہیں۔

اب وہ زیادہ اونچے کاموں میں مصروف ہوتا ہے، علم اور قابلیت پیدا کرتا ہے، نام وری اور عزّت کا جُویا ہوتا ہے۔ دولت و جاہ، عزت و شہرت، عہدہ و منصب حاصل کرتا ہے۔ مقتدائے عام بن جاتا ہے اور یہ گویا کمالِ زندگی کا اخیر درجہ ہے، لیکن حقیقت شناسی اس سے بھی آگے بڑھتی ہے تومعلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی بے حقیقت چیزیں تھیں۔ اسی طرح یہ سلسلہ آگے بڑھتا جاتا ہے، لیکن بالآخر ایک حد قرار پا جاتی ہے اور اربابِ ظاہر کے نزدیک وہی حاصلِ زندگی ہوتا ہے۔

(عظیم مفکّر، عالمِ دین، سیرت و سوانح نگار، مؤرخ، شاعر اور نقّاد شبلی نعمانی کے مضمون “حقائق اشیا اور معشوقِ حقیقی” سے اقتباس)

Comments

یہ بھی پڑھیں