اردو کا ایک اور محسن رخصت ہوا، ممتاز مترجم اور ادیب ڈاکٹر عمر میمن انتقال کر گئے
The news is by your side.

Advertisement

اردو کا ایک اور محسن رخصت ہوا، ممتاز مترجم اور ادیب محمد عمر میمن انتقال کر گئے

انتظار حسین، نیر مسعود سمیت کئی اردو ادیبوں کو عالمی دنیا میں متعارف کروانے کا سہرا ان کے سر ہے

نیویارک: امریکا میں‌ مقیم ممتاز پاکستانی محقق، مترجم اور ادیب محمد عمر میمن طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، ان کی عمر 79 برس تھی.

تفصیلات کے مطابق عالمی ادب کو پختگی اور تسلسل کے سے اردو روپ دینے والا یہ جید مترجم بیماریوں کے باوجود زندگی کے آخری برس تک کام میں‌ مصروف رہا.

ڈاکٹر عمر میمن کے کارناموں کی فہرست طویل ہے، آدمی انگشت بدنداں رہ جائے. یہ اداروں کے کرنے کا کام تھا، جو محمد عمر میمن نے تن و تتہا انجام دیا اور صحیح معنوں میں‌ خود کو اردو کا عاشق ثابت کیا.

جاں‌ فشانی سے اردو ادب کی خدمت کرنے والے عمر میمن نے کامیو، گبرئیل گارسیا مارکیز، میلان کنڈیرا، ماریو برگیس یوسا، اورحان پامک، نجیب محفوظ ساگاں اور باپسی سدھوا کی نمائندہ تخلیقات کو اردو روپ دیا.

انگریزی کو اردو روپے دینے والے مترجمین تو دست یاب ہیں، البتہ عمر میمن کو اوروں پر یوں فوقیت حاصل رہی کہ ان کی  انگریزی پر بھی خوب گرفت تھی۔ انھوں نے کئی اردو ادبیوں کو عالمی دنیا میں‌ متعارف کروایا. 

ڈاکٹر عمر میمن نے عبداللہ حسین، انتظار حسین، نیر مسعود، اسد محمد خاں، ڈاکٹر حسن منظر، اکرام اللہ سمیت متعبر فکشن نگاروں کی تخلیقات کو نہ صرف انگریزی کے قالب میں ڈھالا، بلکہ ان پر مستند انگریزی جراید میں تنقیدی مضامین بھی لکھے.

ان کے اور محمد حمید شاہد کے درمیان ماریو برگس یوسا کی کتاب سے متعلق ہونے والی خط و کتابت بھی کتابی صورت میں شایع ہوئی.

ڈاکٹر عمر میمن 1939 میں علی گڑھ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق گجراتی فیملی سے تھا، وہ عربی کے معروف اسکالر عبدالعزیز میمن کے بیٹے تھے، انھوں نے 1964 میں‌ ہارورڈ سے ایم اے اور یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، لاس اینجلس سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی.

ڈاکٹر عمر میمن ممتاز نقاد ڈاکٹر شمیم حنفی کے ساتھ

وہ 38 برس یونیورسٹی آف وسکانسن سے متعلق رہے. انھوں نے پچیس برس تک اینو اسٹڈی آف اردو لٹریچر نامی جریدہ نکالا.


اردو کے محسن، ممتاز مترجم شاہد حمید انتقال کر گئے


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں