The news is by your side.

Advertisement

مٹھّو بھٹیارا

ناشتہ بیچنے والے کو بھٹیارا کہا جاتا تھا۔ میاں مٹّھو کا نام تو کچھ بھلا سا ہی تھا، کریم بخش یا رحیم بخش ٹھیک یاد نہیں، ڈھائی ڈھوئی کے مینہ سے پہلے کی بات ہے، ساٹھ برس سے اوپر ہی ہوئے ہوں گے، مگر ایک اپنی گلی والے کیا، جو انھیں پکارتا میاں مٹّھو کہہ کر اور انھیں بھی اسی نام سے بولتے دیکھا۔

میاں مٹّھو بھٹیارے تھے۔ سرائے کے نہیں، دلّی میں محلے محلے جن کی دکانیں ہوتی ہیں، تنور میں روٹیاں لگتی اور شوربا، پائے اور اوجھڑی بکتی ہے۔ نان بائی اور نہاری والوں سے ان بھٹیاروں کو ذرا نیچے درجے کا سمجھنا چاہیے۔ تنور والے سب ہوتے ہیں۔ نان بائیوں کے ہاں خمیری روٹی پکتی ہے۔ یہ بے خمیر کے پکاتے ہیں۔ ادھر آٹا گندھا اور ادھر روٹیاں پکانی شروع کر دیں۔

پراٹھے تو ان کا حصہ ہے۔ بعض تو کمال کرتے ہیں۔ ایک ایک پراٹھے میں دس دس پرت اور کھجلے کی طرح خستہ۔ دیکھنے سے مُنھ میں پانی بھر آئے۔ قورمہ اور کبابوں کے ساتھ کھائیے۔ سبحان اللہ۔ بامن کی بیٹی کلمہ نہ پڑھنے لگے تو ہمارا ذمہ۔

شاہ تارا کی گلی میں شیش محل کے دروازے سے لگی ہوئی میاں مٹّھو کی دکان تھی۔ شیش محل کہاں؟ کبھی ہو گا۔ اس وقت تک آثار میں آثار ایک دروازہ وہ بھی اصلی معنوں میں پھوٹا ہوا باقی تھا۔ نمونتہً بہ طور یادگار۔ اب تو ہمارے دیکھتے دیکھتے وہ بھی صاف ہو گیا۔ اس کی جگہ دوسری عمارتیں بن گئیں۔ دروازہ تو کیا رہتا، دروازے کے دیکھنے والے بھی دو چار ہی ملیں گے۔

سنا ہے جاڑے، گرمی، برسات محلّے بھر میں سب سے پہلے میاں مٹھو کی دکان کھلتی۔ منھ اندھیرے، بغل میں مسالے کی پوٹلی وغیرہ سر پر پتیلا، پیٹھ کے اوپر کچھ چھپٹیاں کچھ جھانکڑ لگنی میں بندھے ہوئے گنگناتے چلے آتے ہیں۔ آئے دکان کھولی، جھاڑو، بہارو کی، تنور کھولا، ہڈیوں گڈیوں یا اوجھڑی کا ہنڈا نکالا۔ ہڈیاں جھاڑیں۔ اس کوٹھی کے دھان اس کوٹھی میں کیے۔ یعنی گھر سے جو پتیلا لائے تھے۔ ہنڈے کا مال اس میں ڈالا۔ مسالہ چھڑکا اور اپنے دھندے سے لگ گئے۔

سورج نکلتے نکلتے سالن، نہاری، شروا جو کہو درست کر لیا۔ تندور میں ایندھن جھونکا۔ تندور گرم ہوتے ہوتے غریب غربا کام پر جانے والے روٹی پکوانے یا لگاون کے لیے شروا لینے آنے شروع ہو گئے۔ کسی کے ہاتھ میں آٹے کا طباق ہے تو کوئی مٹّی کا پیالہ لیے چلا آتا ہے اور میاں مٹّھو ہیں کہ جھپا جھپ روٹیاں بھی پکاتے جاتے ہیں اور پتیلے میں کھٹا کھٹ چمچ بھی چل رہا ہے۔

مٹھو میاں کی اوجھڑی مشہور تھی۔ دور دور سے شوقین منگواتے۔ آنتوں اور معدے کے جس مریض کو حکیم اوجھڑی کھانے کو بتاتے وہ یہیں دوڑا چلا آتا۔ کہتے ہیں کہ پراٹھے بھی جیسے میاں مٹھو پکا گئے پھر دلّی میں کسی کو نصیب نہ ہوئے۔

ہاتھ کچھ ایسا منجھا ہوا تھا، تندور کا تائو ایسا جانتے تھے کہ مجال ہے جو کچا رہے یا جل جائے۔ سرخ جیسے باقر خانی، سموسے کی طرح ہر پرت الگ نرم کہو تو لچئی سے زیادہ نرم بالکل ملائی۔ کرارا کہو تو پاپڑوں کی تھئی۔ کھجلے کو مات کرے۔ پھر گھی کھپانے میں وہ کمال کہ پائو سیر آٹے میں ڈیڑھ پائو کھپا دیں۔ ہر نوالے میں گھی کا گھونٹ اور لطف یہ کہ دیکھنے میں روکھا۔ غریبوں کے پراٹھے بھی ہم نے دیکھے۔ دو پیسے کے گھی میں تر بہ تر۔

بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا کہ ڈیڑھ پائو گھی والے سے دو پیسے والے پر زیادہ رونق ہے، اس ہنر کی بڑی داد یہ ملتی کہ غریب سے غریب بھی پراٹھا پکوا کر شرمندہ نہ ہوتا۔ پوسیری اور چھٹنکی پراٹھے دیکھنے والوں کو یکساں ہی دکھائی دیتے۔ مال دار اور مفلس کا بھید نہ کھلتا۔

(مخصوص لب و لہجے میں دلّی کے مختلف مقامات اور خاص و عام کے شب و روز کا احوال بیان کرنے والے اشرف صبوحی کے قلم سے)

Comments

یہ بھی پڑھیں