عصرِ قدیم کی دیو مالا میں ایک پرندے کا ذکر آیا ہے جو آگ میں جل کر حیاتِ تازہ حاصل کرتا تھا۔ جس فرد یا قوم میں یہ صلاحیت نہ ہو کہ آگ میں پک کر جھلسنے کی بجائے نئی آب و تاب میں سرخرو ہو جائے اُس کی قسمت فنا کے سوا کچھ نہیں۔
شمالی یورپ کے وحشی قبیلوں کے بار تلے سلطنتِ روما ایسی دفن ہوئی کہ پھر نہ ابھر سکی اور وہ برا عظم صدیوں اس قعرِ مذلت میں پڑا رہا جسے دورِ ظلمت کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ یہی حال منگولوں کی یلغار کے بعد عرب معاشرے کا ہوا تھا لیکن گزشتہ جنگِ عظیم کی تباہ کاری کے بعد ہم نے مغرب و مشرق کے ممالک کو قلیل مدت میں تعمیر و ترقی کی منزلیں طے کرتے دیکھا۔ یہ جدید انسان کے عزم اور حوصلے کا کرشمہ اور سائنس و صنعت سے استفادے کا اعجاز ہے۔ اس کی پہلی مثال مجھے جرمن شہر میونخ میں نظر آئی۔
1948ء کے وسط میں، مَیں حکومتِ پاکستان کے نمائندے کی حیثیت سے جنیوا کی بین الاقوامی تعلیمی کانفرنس میں شرکت کے لیے جا رہا تھا کہ پین امریکن طیارہ انجن کی خرابی کی وجہ سے ناگہاں دوپہر کے وقت میونخ میں رک گیا۔ اتحادیوں کی بمباری نے شہر کو تقریباً نیست و نابود کر دیا تھا اور ہر طرف شکستہ مکانوں اور ملبے کے انبار میں سرگرداں برہنہ پا بوڑھی اور تارِ پیراہن میں نیم عریاں عورتوں کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔ دس سال بعد جب مجھے دوبارہ میونخ جانا پڑا تو شہر بڑی حد تک آباد ہو چکا تھا اور اس کی عمارتوں اور سڑکوں پر ایسی رونق تھی گویا یہاں کوئی آفت نازل نہ ہوئی ہو۔ میرے لیے یہ باور کرنا مشکل تھا کہ ایک شکست خوردہ حکومت اور بے سرو سامان قوم نے اتنی سرعت سے شہر کی تعمیرِ نو کرلی ہو۔ اتفاق سے میری ملاقات ایک امریکن سے ہوئی جس نے اپنا تعارف اس طرح کرایا۔ "اپریل 1945ء کا ذکر ہے جب ہٹلر نے خود کشی کر لی اور اس کی باقی ماندہ فوج نے ہتھیار ڈال دیے۔ اس وقت جس امریکی فوج نے میونخ پر قبضہ کیا، میں اس کا ایک افسر تھا۔ جنگ کی بربادی کے باوجود شہر کا خاصا حصّہ ابھی باقی تھا اور اس میں باشندوں کی اچھی خاصی تعداد تھی۔ اتنے میں ہمارے جنرل نے حکم دیا کہ جگ ختم ہو چکی مگر یہ گولہ بارود واپس کہاں لے جائیں، کیوں نہ اسے اس شہر کی نذر کر دیں۔ اس کے حکم کی دیر تھی کہ ہزاروں توپوں کے دہانے کھل گئے اور چند گھنٹوں میں میونخ کی اینٹ سے اینٹ بج گئی۔ یہ غارت گری اس قدر لاحاصل تھی کہ میرا ضمیر تاب نہ لا سکا اور فوج کی ملازمت سے علیحدگی کے بعد میں نے تہیہ کیا کہ باقی زندگی میونخ کی تعمیرِ نو پر صرف کردوں گا۔ کئی سال قبل میں اس غرض سے یہاں آکر بس گیا تاکہ اس گناہ کا کفارہ ادا کروں، جس شہر کو ہم نے اجاڑا تھا اُسے دوبارہ بسانے میں ہاتھ بٹاؤں۔” اُس نے مجھے بتایا کہ جرمنی کا ہر فرد فرصت کے وقت رضا کارانہ یہ خدمت انجام دیتا تھا۔ یہی جذبہ تھا جس نے نہ صرف جرمنی بلکہ جنگ کے زخم خوردہ ہر ملک کو نئی زندگی بخشی۔
اس موقع پر مجھے اپنے ملک کا ایک واقعہ یاد آیا جو 1950ء کے لگ بھگ اُس وقت پیش آیا جب مہاجروں کے قافلے کراچی کی سڑکوں پر پڑے فرشتوں کی آمد کا انتظار کر رہے تھے۔ انگلستان کے چند رضا کار انھیں یہ بتلانے کی کوشش کر رہے تھے کہ خود اپنی محنت سے برائے نام خرچ پر وہ معمولی قسم کے رہائشی مکان بلا دقّت بنا سکتے ہیں۔ لیکن اس کارِ خیر میں نہ انھیں کوئی رضا کار ملے اور نہ کسی نے ان سے تعاون کیا۔ ہماری پستی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ خدا اور حکومت پر ساری ذمہ داریاں ڈال کر ہم آسانی سے بری الذّمہ ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ جمود، بے حرکتی اور بے حسی کا جو تماشا یہاں نظر آتا ہے وہ شاید و باید کہیں اور دکھائی دے گا۔
(اردو کے ممتاز ترقی پسند نقاد، ادیب اور مترجم ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کی خودنوشت گردِ راہ سے انتخاب)
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


