The news is by your side.

Advertisement

غزل سنانے پر شعرا میں‌ تکرار، مشاعرہ درہم برہم!

ایک دن شام کو اپنے کوارٹر کی دیوار پر ایک قلمی پوسٹر چسپاں دیکھا جس میں بزمِ بہارِ ادب کے ماہانہ مشاعرے کا زیرِ صدارت حضرت بہار کوٹی، ان کے مکان پر منعقد ہونے کا اعلان تھا۔

کسی مشاعرے میں شریک ہوئے مدت ہوچکی تھی۔ یہ مشاعرہ میرے گھر کے قریب منعقد ہورہا تھا۔ عزم مصمم کیا کہ کل رات کو اس میں ضرور شریک ہوں گا۔

چناں چہ دوسرے دن رات کو میں اس مشاعرے میں پہنچا۔ میں نے دیکھا کہ بہار صاحب کا برآمدہ اور صحن شعرا اور سامعین سے بھرا ہوا ہے۔ جان پہچان نہ ہونے کی وجہ سے مجھے جوتوں کے قریب جگہ ملی۔ میں وہیں بیٹھ گیا اور اپنی حالت زار پر افسوس ہوا کہ اس طرح بھی مشاعروں میں شریک ہونا مقدر تھا۔

دس بجے شب کو یہ مشاعرہ شروع ہوا۔ مجھے خوب یاد ہے کہ عنبر چغتائی اس مشاعرے کو اناؤنس کررہے تھے۔ عام طور پر مشاعروں کا اصول یہ ہے کہ اناؤنسر یا تو ابتدا میں غزل پڑھ لیتا ہے، یا پھر زیادہ سے زیادہ وسط میں۔ عنبر چغتائی نے اس مشاعرے میں غلطی یہ کی کہ وہ دوسروں سے غزلیں پڑھواتے رہے۔ خود غزل نہیں پڑھی۔

جب دو چار شاعر باقی رہ گئے تو اس پر جمیل بدایونی مرحوم کا اچانک ناریل چٹخ گیا اور انہوں نے نہایت خشمگیں آواز میں عنبر چغتائی کو للکارا۔

عنبر! تمہارا یہ رویہ غلط ہے کہ تم نے اب تک مشاعرے خود غزل نہیں پڑھی اور دوسروں سے غزلیں پڑھواتے جارہے ہو۔ یہاں تک کہ اساتذہ اب غزلیں پڑھ رہے ہیں۔ کیا تم اپنے آپ کو اس شہر کے اساتذہ سے بھی بلند تصّور کرتے ہو، حالاں کہ ابھی تمہارا شمار مبتدیوں میں ہے۔ اگر حوصلہ ہے تو آؤ اور یہیں زانو سے زانو ملاکر کوئی طرح مقرر کرکے غزل کہو۔ ابھی معلوم ہوجائے گا کہ کتنے پانی میں ہو۔

عنبر نے یہ غیر متوقع جملہ سنا۔ ان کی آواز ویسے بھی منحنی ہے۔ جمیل کے اس غیر متوقع جملے نے گھگیا دیا۔ ہر طرف سے موافقت اور مخالفت کی آوازیں بلند ہوئیں۔ وہ شور تھا کہ کان پڑی آواز سننے میں نہ آتی تھی۔

بہار صاحب کبھی جمیل بدایونی کو سمجھاتے، کبھی عنبر چغتائی کو روکتے، مگر بات بڑھتی جارہی تھی۔ یہ محفل مشاعرہ نہایت بدمزگی سے درہم برہم ہوئی۔
(نوٹ: یہ واقعہ معروف ادیب اعجاز الحق قدوسی کی یادداشتوں پر مبنی کتاب سے لیا گیا ہے)

Comments

یہ بھی پڑھیں