The news is by your side.

Advertisement

مجذوب کا کہا سچ ہوا!

میں مدرسۂ دینیات کے وظیفے کی تگ و دو میں تھا اور نواب صدر یار جنگ، صدر الصدور امورِ مذہبی کے بنگلے پر چکر لگاتا تھا۔ ان کا بنگہ خیریت آباد (حیدر آباد دکن) میں تھا۔

ایک دن علی الصباح میں نواب صد یار جنگ سے ملنے خیریت آباد اپنی سائیکل پر جا رہا تھا کہ اسٹیشن کے قریب مجھے ایک شخص ملا جو ننگ دھڑنگ تھا۔

اس نے میری سائیکل کے سامنے کھڑے ہو کر سائیکل روک لی۔ پھر نہایت درشت لہجے میں مجھ سے پوچھا کہاں جارہا ہے؟ میں نے جواب دیا نواب صدر یار جنگ سے ملنے۔ اس نے کہا کہ ان کا نام تو ہمارے یہاں سے کٹ گیا ہے۔ میں نے کہا۔ تمھارے یہاں سے کٹا ہو گا، مگر ہمارے یہاں سے نہیں۔ اس نے کہا تمھارے یہاں سے بھی چھے ماہ میں کٹ جائے گا۔

یہ کہہ کر وہ سڑک کے ایک کنارے ہو گیا اور میں نے اپنا راستہ لیا۔ میں راستے میں اسے دیوانے کی بڑ سمجھتا رہا اور مجذوب کی اس بات کو بھول گیا۔ اس بات کو چھے ماہ گزرے ہوں گے کہ نواب لطفُ الدّولہ، صدر المہام امورِ مذہبی ہوئے۔ پہلے تمام کاغذات اعلیٰ حضرت کی پیشی میں صدر الصدور پیش کرتا تھا، اب یہ کاغذات بتوسط صدر المہام پیش ہونے لگے۔

نواب صدر یار جنگ کے اختیار میں زوال آنا شروع ہوا۔ کہتے ہیں کہ نواب لطفُ الدولہ اور نواب صدر یار جنگ میں چلی ہوئی تھی۔ یہ اختلافات وسیع ہوتے چلے گئے۔ اگر نواب صدر یار جنگ دن کو دن کہتے تو وہ رات۔ اس صورتِ حال نے نواب صدر یار جنگ کو دل شکستہ کر دیا۔

یہ واقعہ اعجاز الحق قدوسی نے اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب میں رقم کیا ہے۔ مجذوب سے ملاقات کے بعد انھوں نے وہی کچھ دیکھا جو اس نے بیان کیا تھا۔ یعنی لگ بھگ چھے ماہ بعد صدر یار جنگ عہدے پر نہ رہے۔ دونوں کے مابین اختلافات کا نتیجہ یہ نکلا کہ صدر یار جنگ مستعفی ہو کر اپنے وطن حبیب گنج چلے گئے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں