The news is by your side.

Advertisement

“پڑھے لکھے آدمی بھی دانتوں کی ذرا پروا نہیں کرتے”

ویسے تو میں تقریباً ہر درد سے آشنا ہوں۔ معلوم نہ تھا کہ دانت کے درد میں وہ تڑپ پوشیدہ ہے کہ دردِ دل، دردِ گردہ، دردِ جگر تو اس کے مقابلہ میں ’’عین راحت‘‘ ہیں۔ چناں چہ جب متواتر تین رات کراہنے اور ہر ہمسائے کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کے بعد بھی درد میں کچھ افاقہ نہ ہوا تو میں نے ڈاکٹر اندر کمار کی دکان کا رخ کیا۔

آپ دانتوں کی بیماریوں کے ماہر ہیں اور دانت بجلی سے نکالتے ہیں۔ شاید مؤخر الذکر چیز نے مجھے ان کی جانب رجوع کرنے کو اکسایا۔ کیوں کہ بجلی کے سوا شاید ہی کوئی دوسری چیز مجھے بچا سکتی۔ چناں چہ میں نے ان کی دکان میں لپکتے ہوئے کہا:
’’میری بائیں داڑھ فوراً بجلی سے نکال دیجیے۔‘‘ڈاکٹر صاحب نے حیرت سے میری طرف تکتے ہوئے کہا۔ آپ کہاں سے تشریف لائے ہیں؟

’’آپ مجھ سے راہ و رسم بعد میں بڑھا سکتے ہیں۔ پہلے میری بائیں داڑھ نکالیے۔‘‘ ڈاکٹر صاحب نے کہا تشریف رکھیے، گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ابھی نکالے دیتا ہوں۔ اس کے بعد آپ نے مجھ پر سوالات کی بمباری شروع کر دی۔

مثلاً کب سے درد ہے، کیوں درد ہے، اوپر والی داڑھ میں ہے یا نیچے والی داڑھ میں؟ اس سے پہلے بھی کبھی دانت نکلوایا ہے، کیا صرف ایک ہی دانت نکلوانا چاہتے ہیں؟‘‘

اب میں تھا کہ درد سے بے تاب ہو رہا تھا اور ہر سوال کا جواب دینے کی مجھ میں ہمّت نہ تھی مگر ڈاکٹر صاحب تھے کہ برابر مسکرائے جا رہے تھے۔ اور جب میں درد سے کراہتا تو ان کی مسکراہٹ زیادہ دل آویز اور دل کش ہو جاتی۔

آخر جب انھوں نے دو تین دفعہ میرے منع کرنے کے باوجود اچھی طرح داڑھ کو ہلایا اور دیکھا کہ شدتِ درد سے مجھ پر بے ہوشی طاری ہوا چاہتی ہے تو انھیں یقین ہو گیا کہ واقعی دانت کا درد ہے۔ اس کے بعد انھوں نے مجھے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود دو تین اوزار گرم پانی میں ابالنے لگے۔ میں نے کہا:’’اجی حضرت جلدی کیجیے۔ بجلی سے میری داڑھ نکالیے۔‘‘

’’ کہنے لگے:‘‘ آج بجلی خراب ہو گئی ہے، اس لیے داڑھ ہاتھ سے ہی نکالنا پڑے گی۔‘‘ جتنا عرصہ اوزار گرم ہوتے رہے وہ مجھے دانت کی خرابیوں سے پیدا ہونے والی بیماریوں پر لیکچر دیتے رہے۔ ان کے خیال کے مطابق دنیا کی تمام بیماریاں دانتوں ہی کے خراب ہو جانے سے پیدا ہوتی ہیں۔ بد ہضمی سے تپ دق تک جتنے امراض ہیں، ان کا علاج داڑھ نکلوانا ہے۔

اس لیکچر میں آپ نے اس ملک کے لوگوں کی عادات پر بھی کچھ تبصرہ کیا۔ مثلاً ‘‘ یہاں کے لوگ بے حد بے پروا واقع ہوئے ہیں۔ امریکا اور انگلینڈ میں ہر ایک آدمی سال میں چار دفعہ دانت صاف کرواتا ہے، مگر یہاں لوگ اس وقت تک دندان ساز کی دکان کا رخ نہیں کرتے جب تک دانت کو کیڑا لگ کر سارا مسوڑھا تباہ نہ ہو جائے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ آپ جیسے پڑھے لکھے آدمی بھی دانتوں کی ذرا پروا نہیں کرتے، اگر لوگ ذرا محتاط ہوں تو آج ان کی مشکلیں حل ہو جائیں۔

اس قسم کے متعدد جملے وہ ایک ہی سانس میں کہہ گئے۔ حتیٰ کہ مجھے محسوس ہونے لگا کہ ہمارے ملک کے سچّے خیر خواہ صرف آپ ہیں۔ اور اگر آپ نہ ہوتے تو خدا جانے ہمارے ملک کی کیا حالت ہوتی۔

(معروف مزاح نگار کنہیا لال کپور کے قلم کی شوخیاں)

Comments

یہ بھی پڑھیں