ہفتہ, جولائی 18, 2026
اشتہار

شیخ ضیاء الدین شمسی کی الجھن اور میرزا ادیب

اشتہار

حیرت انگیز

ایک صاحب کا ذکر میں بطور خاص کرنا چاہتا ہوں۔ یہ تھے شیخ ضیاء الدین شمسی۔

میں سجھتا ہوں کہ اگر شمسی صاحب کی تحریریں کتابی صورت میں جمع ہو جاتیں تو ہم اردو ادب کے ایک درخشندہ ستارے کی کرنوں سے محروم نہ ہوتے۔ شیخ صاحب کوئی پیشہ ور صاحبِ قلم نہیں تھے۔ سرکاری ملازم تھے، مگر دفتری ذمے داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے بعد ان کے پاس جتنا وقت بچتا تھا وہ مطالعہ اور تخلیقی سرگرمیوں میں صرف کر دیتے تھے۔

انگلینڈا اور امریکہ کے تمام رسائل ان کے پاس آتے تھے۔ ان رسائل کا وہ مطالعہ کرتے رہتے تھے اور جب کوئی مضمون لکھتے تھے تو حاصلِ مطالعہ سے پورا پورا فائدہ اٹھاتے تھے۔

شمسی صاحب بغیر معاوضے کے اپنی کوئی چیز کسی رسالے کو نہیں دیتے تھے۔ صرف رسالہ ہمایوں اور عالمگیر کے مستقل مضمون نگار تھے۔ انہوں نے افسانے کی تکنیک پر ماہنامہ ہمایوں میں ایک نہایت جامع اور بھرپور مضمون لکھا تھا۔

ادبِ لطیف کے ایک خاص نمبر کے لیے میں جب مضامین کی فراہمی کا کام کر رہا تھا تو میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ شمسی صاحب سے بھی ایک افسانہ حاصل کروں۔ ان کا پرانا معتقد تھا اور ان کے صاحبزادے میرے ہم جماعت بھی رہ چکے تھے۔ اس زمانے میں شمسی صاحب اس اونچے مکان میں رہتے تھے جو اب ویران نظر آتا ہے۔ یہ مکان جس کا رنگ اب بھی سرخی مائل ہے، اس سڑک کے کنارے واقع ہے جو اردو بازار سے پھوٹ کر یونیورسٹی اورینٹل کالج کی طرف جاتی ہے، نقوش پریس سے ذرا آگے ایک اونچے تھڑے پر دکھائی دیتا ہے۔ کسی زمانے میں یہ ایک عالی شان بلڈنگ تھی۔

میں جب پہلی مرتبہ شمسی صاحب کے کمرے میں پہنچا تو مرعوب ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ کمرے کی چاروں دیواروں کے ساتھ ریک لگے تھے جن پر ہزاروں رسالے بڑے قرینے کے ساتھ رکھے ہوئے تھے۔ کتابیں ان گنت تھیں۔ میں نے افسانے کے لیے عرض کیا تو بولے۔
بہت عرصے سے کچھ نہیں لکھا۔ آپ تشریف لائے ہیں تو میں ضرور لکھوں گا۔

پوچھا کب تک افسانہ مل جائے گا؟ خیال تھا شمسی صاحب آٹھ دس روز تک مکمل کر دیں گے۔ سوچ کر بولے "کم از کم ایک مہینہ دیجیے۔”

میں نے حیران ہو کر ان کے چہرے کی طرف دیکھا۔ "ایک مہینہ!”

"ایک افسانے کے لیے کم از کم…. ایک مہینہ تو چاہیے۔”

"جی وہ خاص نمبر تو اگلے مہینے شائع ہو جائے گا۔ آپ جانتے ہیں پرچہ اپنے کن مراحل سے گزر کر….”

"کوشش کروں گا کہ جلدی مکمل کرکے آپ کے حوالے کر دوں۔”

اب جو میں نے شمسی صاحب کی خدمت میں حاضر ہونا شروع کیا تو حاضر ہی ہوتا گیا۔ ہر بار جواب ملتا، میں لکھ رہا ہوں۔

ایک بار فرمایا، "افسانہ مکمل کرنے میں ذرا سی الجھن ہے۔”

استفسار کیا، "الجھن کیا ہے؟”

کہنے لگے، "آپ میری الجھن دور کر سکتے ہیں۔ وہ چیز جس سے توڑی کو سمیٹا جاتا ہے۔ اردو میں اسے کیا کہتے ہیں؟”

ساری زندگی شہر میں گزارنے کے باوجود میں نے کبھی اس چیز پر غور نہیں کیا تھا۔ میں نے شرمندگی کا اظہار کیا تو کہنے لگے، فلاں شے کیا کہلاتی ہے۔ اور فلاں اوزار کو اردو میں کیا کہتے ہیں۔ یہ سب چیزیں توڑی اور بھوسے سے متعلق تھیں۔ میں محاورۃً نہیں واقعی بغلیں جھانکنے لگا۔

بولے، "آج دو تین توڑی کی دکانوں پر گیا تھا، مگر معلومات نہیں حاصل کر سکا۔ کچھ روز انتظار کریں، افسانہ ضرور مل جائے گا آپ کو۔” پھر باتوں ہی باتوں میں فرمایا، "ہمارے یہاں مشاہدے کی بڑی کمی ہے۔ جزئیات نگاری کی طرف توجہ نہیں دی جاتی۔ ایک وہ امریکی مصنف مارک ٹوین ہے جسے یہ معلوم کرنا تھا کہ بغیر ٹکٹ کے سفر کرنے پر کیا سلوک ہوتا ہے۔ اس کے لیے اس نے ایک بار نہیں سات بار بغیر ٹکٹ کے سفر کیا اور پھر اپنے ذاتی مشاہدے کو تحریر میں جگہ دی۔”

(معروف افسانہ نگار، ڈرامہ نویس اور نقاد میرزا ادیب کے شخصی خاکوں کی کتاب ناخن کا قرض سے ایک اقتباس۔ میرزا ادیب ’’ادبِ لطیف‘‘ لاہور کے مدیر بھی رہے)

اہم ترین

مزید خبریں