The news is by your side.

Advertisement

حلیم اور مہربان دیوتا

میں انسانی زندگی کی الجھنوں پر جس قدر غور کرتا ہوں اتنا ہی مجھ پر روشن تر ہوتا جاتا ہے کہ جس طرح قدیم مصر کے لوگ بخشش اور نجات کے لیے آئیس اور نیفتیس کا دامن پکڑتے تھے اسی طرح ہمیں اپنی مشکلات کے حل کے لیے طنز اور رحم کا دامن پکڑنا پڑتا ہے۔

طنز اور رحم سے بڑھ کر کوئی چیز ہماری مشکل کشا نہیں ہو سکی۔ طنز سے زندگی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پیدا ہوتی ہے اور رحم اپنے آنسوؤں سے زندگی کو مقدس بناتا ہے۔

جس طنز کو میں اپنا دیوتا بنانا چاہتا ہوں، وہ کوئی سنگ دل دیوتا نہیں۔ وہ محبت اور حسن کا مضحکہ نہیں اڑاتا، وہ حلیم اور مہربان دیوتا ہے۔ اس کا تبسم دشمنوں کو بھی دوست بنا لیتا ہے اور وہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ احمقوں اور ظالموں پر ہنسو، ان سے نفرت مت کرو۔ کیوں کہ یہ کم زوری کی نشانی ہے۔

ایک بہت بڑے فرانسیسی کے ان دانش مندانہ الفاظ پر میں اس کتاب کو ختم کرتا ہوں اور رخصت چاہتا ہوں…. خدا حافظ ۔

(ماخوذ از ”نوع انسان کی کہانی“ مصنف ہنڈرک فان لون، مترجم پطرس بخاری)

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں