عصمت آپا سے میری پہلی ملاقات کہاں اور کب ہوئی، ٹھیک ٹھیک یاد نہیں آتا۔ اتنا یاد ہے کہ آزادی کے بعد ہی سرکاری کام سے بمبئی گیا تو ان سے ملنے بھی چلا گیا تھا۔
اُن کی ایک بہت ہی طرح دار ملازمہ نے دروازہ کھولا تھا۔ بمبئی میں اوپر کے کام کاج کے لئے ایسی لونڈیاں بکثرت مل جاتی ہیں۔ بہرحال، عصمت آپا نے بڑی اپنائیت سے بٹھایا اور بہت سی باتیں کیں۔
"ہم دونوں نے لو میرج کی تھی، لیکن شاہد پر میں کبھی روک ٹوک نہیں لگائی۔ چاہے جس سے ملے، میں اپنے لیے لکھنے کی پوری آزادی چاہتی تھی جو مجھے ملی۔ بلکہ اسے کوئی مجھ سے چھین ہی نہیں سکتا تھا۔ یہ ایک مثالی سمجھوتا Ideal Arrangement تھا۔”
ایک اچھی کہانی کے کلیدی جملے Key Sentence کی طرح ان کے منہ سے سنی ہوئی یہ بات مجھے اچھی لگی اور آج تک یاد رہ گئی ہے۔
1944ء میں ستمبر کی کسی تاریخ میں پھر بمبئی جانا ہوا تو پہلے کی طرح بغیر فون کیے ان کے ہاں جا پہنچا۔ اس روز شاہد لطیف گھر پر تھے اور اکیلے تھے۔ ہم ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے۔ میں نے قیافہ لگایا کہ وہی ہوں گے۔ انھوں نے میرا نام تو پوچھا تھا لیکن چونکے نہیں تھے۔ شاید میرے نام میں چونکانے والی کوئی بات تھی ہی نہیں۔ اور معلوم کر کے کہ میں عصمت آپا سے ملنے آیا ہوں، اندر لے جا کر بٹھا دیا تھا، یہ کہتے ہوئے "عصمت ابھی آتی ہوں گی۔” اس کے بعد میرے سامنے ایک دوسرے صوفے پر ایک انگریزی ناول پڑھنے میں مصروف ہو گئے، جسے وہ میرے آنے سے پہلے بھی پڑھ رہے تھے۔
دس پندرہ منٹ سخت بے چینی میں گزرے ۔ رہ رہ کر غصہ آرہا تھا۔ شاہد لطیف کیسا آدمی ہے، جو فلم پروڈیوسر اور ڈائریکٹر زیادہ لگتا ہے۔ اپنی بیوی کے دوست کے ساتھ ایسی بے اعتنائی کیوں برت رہا ہے؟
اچانک انھوں نے کتاب ہاتھ سے رکھ دی اور پوچھا۔ "آپ افسانہ نگار رام لعل تو نہیں ہیں؟” لیکن ان کی یہ حیرانی بھی میری بے چینی کو کم نہ کرسکی۔ جی ہاں کہہ کر میں نے ادھر اُدھر اُسی بے چینی سے دیکھا۔
"معاف کیجیے گا، آپ کو میں کوئی پروڈیوسر سمجھا۔ ڈائیلاگ وغیرہ لکھوانے کے لیے اکثر لوگ عصمت سے ملنے آیا کرتے ہیں۔” ہم دونوں پہلی بار مسکرائے۔ انھوں نے میرے لیے شربت منگوایا۔
اب ان کے کچن میں سے کوئی دوسری طرح دار ملازمہ برآمد ہوئی۔ پھر وہی چائے بھی لے آئی۔ اس کے آس پاس مجھے ایک نوجوان ملازم بھی نظر آیا جو ایک پرانی خوش رنگ بشرٹ اور پینٹ پہنے ہوئے تھا۔ پائنچے موڑ کر اس نے گھٹنوں تک اوپر چڑھا رکھے تھے اور فرش پر پوجا مارتا پھرتا تھا۔ شاہد لطیف نے اپنی بات جاری رکھی۔
"کچھ عرصہ ہوا، آپ کا پتہ تلاش کرایا تھا میں نے، کسی رسالے میں آپ کی کہانی پڑھی تھی۔ میں نے اسے فلمانا چاہا تھا۔ آپ کا سراغ نہ ملا تو معاملہ ڈراپ کر دیا گیا۔”
میں یک بیک الرٹ ہو کر بیٹھ گیا۔ سجاد ظہیر کی بیٹی نجمہ کی شادی میں جو دہلی میں سر انجام پائی تھی، پرکاش پنڈت نے کہا تھا۔ "کسی فلم پروڈیوسر نے آپ کا پتہ پوچھا تھا۔ اس کا نام بھی یاد نہیں رہا اب تو….ہٹاؤ۔”
وہ کون سی کہانی تھی میری؟ میں نے شاہد لطیف سے پوچھا۔
"اس کا عنوان تو یاد نہیں مجھے لیکن اس میں ایک بوڑھے کا ذکر ہے۔ جس کے کئی بیٹے اور ایک ہی بیٹی ہے۔ سارے بیٹے بڑے ہو کر ایک ایک کرکے الگ ہوتے چلے جاتے ہیں۔ صرف بیٹی ہی اس کا واحد سہارا بنتی ہے جسے اتفاق سے اس کے شوہر نے چھوڑ دیا ہے۔ دونوں گاڑی کے ایک سفر میں ایک نوجوان سے ملتے ہیں جسے وہ خاندان کا شیرازہ بکھرنے کی داستان سناتا ہے اور سفر کے درمیان ہی دم توڑ دیتا ہے کچھ اسی قسم کا پلاٹ تھا۔”
میں نے بتایا وہ کہانی "سفرِ مسلسل” تھی جو "شاعر” کے کسی سال نامے میں چھپی تھی۔
"آپ ایسا کیجیے، شاعر کا دفتر تو ممبئی میں ہے۔ اس شمارے کو لے کر آئیے، کل میں دادر کے رنجیت اسٹوڈیو میں رہوں گا۔ وہاں بچوں کی ایک فلم بنا رہا ہوں۔ اس کے مکمل ہوتے ہی آپ کی کہانی پر کام شروع کر سکتا ہوں۔ ابھی ہم باتیں کر ہی رہے تھے کہ عصمت آپا ایک اور آدمی کے ساتھ اندر آگئیں۔
"ہاں رام لعل! کب آئے تم…. بیٹھو بیٹھو۔ میں ابھی آتی ہوں۔ شاہد سے باتیں ہوئیں، کھانا کھا کر جانا۔”
شاہد لطیف نے دوسرے آدمی سے ناصر کہہ کر تعارف کرایا تو میں نے ایک صدمہ سا محسوس کیا۔ اُس کے سر کے بال بالکل سفید ہو چکے تھے اور وہ کافی معمر نظر آرہا تھا۔ کئی فلموں میں ہیرو کا رول کر چکا تھا۔ دلیپ کمار کا چھوٹا بھائی تھا۔
لنچ پر بھی میری اس کہانی پر گفتگو ہوتی رہی۔ عصمت آپا نے کہا۔ "یہ کہانی میں نے ہی ری کمنڈ RECOMMEND کی تھی۔ شاہد پھر بھول گئے یا پتہ نہیں کیا ہوا۔ اب تم لے کر آؤ تو اس کے ڈائیلاگ میں ہی لکھوں گی۔”
اُسی شب میں، مَیں اعجاز صدیقی مدیر ‘شاعر’ کے یہاں مدعو تھا، سارا واقعہ کہہ سنایا اور اُن سے متعلقہ رسالہ عنایت کرنے کی درخواست کی جس کا مہینہ یا سنہ اشاعت تک مجھے یاد نہیں تھا لیکن انھوں نے اسے ڈھونڈ نکالا اور مجھے اپنی نیک خواہشات کے ساتھ یہ کہتے ہوئے رخصت کیا۔
"یہ شاعر کے لیے بھی اعزاز ہو گا کہ اس مں چھپی ہوئی تمھاری کہانی پر فلم بنے گی۔ ”
دوسرے دن اسٹوڈیو کے سیٹ پر جا کر میں نے شاہد لطیف کو وہ دے دیا۔ انھوں نے کہا۔ "میں آپ کو دسمبر میں بمبئی بلاؤں گا۔ پھر ہم سب مل کر اس کے اسکرپٹ پر کام کریں گے۔”
لیکن دسمبر میں اچانک اُن کا انتقال ہو گیا۔
(معروف افسانہ نگار رام لعل کے شخصی خاکوں پر مشتمل کتاب ‘دریچوں میں رکھے چراغ’ کے خاکے عصمت آپا سے اقتباس)


