The news is by your side.

Advertisement

ممتاز ادیب، نقّاد اور معلّم رشید احمد صدیقی کی برسی

اردو ادب میں باکمال مزاح نگار، مضمون نویس اور نقّاد کی حیثیت سے رشید احمد صدیقی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ آج اردو کے اس ممتاز ادیب کا یومِ وفات ہے۔ وہ 15 جنوری 1977ء کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔ طنز و مزاح پر مبنی مضامین کے علاوہ رشید احمد صدیقی نے نقد و نظر کے حوالے سے بھی یادگار کتب چھوڑی ہیں۔

رشید احمد صدیقی 24 دسمبر 1892ء کو جون پور کے قصبہ مڑیاہو میں پیدا ہوئے۔ فارسی و عربی کی ابتدائی تعلیم گھر حاصل کی اور بعد میں جون پور کے ہائی اسکول میں داخلہ لیا۔ ہائی اسکول کی تعلیم کے بعد 1915ء میں علی گڑھ چلے گئے جہاں زمانۂ طالب علمی میں مختلف ادبی اور علمی سرگرمیوں میں حصّہ لیتے رہے۔ وہ علی گڑھ کے میگزین کے ایڈیٹر رہے۔

1921 میں اردو کے لیکچرار اور 1943ء میں صدرِ شعبۂ اردو ہوئے۔ بعد ازاں مرکزی وزارتِ تعلیمات کی ایک اسکیم کے ڈائریکٹر ہوئے۔

رشید احمد صدیقی کی زندگی کا بیش تر حصہ علی گڑھ ہی میں گزرا۔ آپ علی گڑھ میں درس و تدریس سے جڑے رہے۔

ڈاکٹر جعفر احراری اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:
رشید صاحب کے طنز میں تلخی اور زہرناکی کا احساس نہیں ہوتا۔ وہ چھوٹے چھوٹے فقروں سے بہت کام لیتے ہیں۔ ان کے فن میں عامیانہ پن نہیں بلکہ گہرائی اور گیرائی کا بول بالا ہے۔ شعر و ادب سے قطع نظر سیاست، تاریخ اور دیگر علوم و فنون کو بھی اپنے موضوع میں شامل کرلیا ہے جس کے سبب ان کے طنز و مزاح سے لطف اٹھانا آسان کام نہیں بلکہ خاصا باشعور اور بے حد شائستہ مذاق کا حامل ہونا ضروری ہے۔

رشید احمد صدیقی کی زندگی شرافت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کا بہترین نمونہ تھی۔ انھوں نے طنز و مزاح، خاکے، علمی و ادبی موضوعات پر مضامین کے علاوہ تنقید نگاری بھی کی، ان کی چند کتابوں کے نام یہ ہیں۔

مضامینِ رشید، گنج ہائے گراں مایہ، اردو طنز و مزاح کی تنقیدی تاریخ، ہم نفسانِ رفتہ، علی گڑھ ۔ ماضی و حال اور ان کے خطوط بھی کتابی شکل میں شایع ہوئے جو ادبی دستاویز اور مستند حوالہ ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں