The news is by your side.

Advertisement

پھر سے پڑھیے….

رئیس صاحب کے قلم سے شعر ٹپکتے تھے۔ شہر کے نوجوان مشاعروں میں پڑھنے کے لیے ان سے غزلیں لکھوا کر لے جاتے تھے۔ ایک بار ایسے ہی ایک نوجوان نے، جو کسی طرح سے بھی شاعر نہیں لگتا تھا، پیچھے پڑ کر رئیس صاحب سے غزل لکھوا لی اور رات کو اسی مشاعرے میں سنانے پہنچ گیا جس میں رئیس صاحب بھی موجود تھے اور وہیں اسٹیج پر بیٹھے تھے۔

اس لڑکے نے غضب یہ کیا کہ غزل اپنے ہاتھ سے بھی نہیں لکھی بلکہ رئیس امروہوی صاحب کے ہاتھ کی تحریر لے کر پڑھنے لگا۔ پڑھتے پڑھتے ایک مصرع کچھ یوں پڑھا:

اے کہ تیری حَپّوں سے برہمی برستی ہے

سارے مجمع پر سناٹا چھا گیا۔ کہیں سے آواز آئی، پھر سے پڑھیے میاں صاحب زادے۔ مصرع پھر سے پڑھا گیا:

اے کہ تیری حَپّوں سے برہمی برستی ہے​

اس بار کئی آوازیں ابھریں۔ واہ وا۔ مکرر ارشاد۔ اس نے پھر پڑھا اور زیادہ لہک کر پڑھا؛
اے کہ تیری حَپّوں سے برہمی برستی ہے…

بس پھر کیا تھا۔ مجمع نے یہ مصرع بار بار پڑھوانا شروع کیا اور شاعر کی سرشاری بڑھتی گئی۔ قریب ہی اسٹیج پر بیٹھے ہوئے رئیس امروہوی صاحب پہلے تو کھنکھارتے رہے، آخر ان سے نہ رہا گیا اور مصرعے کو درست کرتے ہوئے بولے۔

اے کہ تیرے چتون سے۔۔۔۔ چتون سے۔۔۔۔

اس پر شاعر کی باچھیں کھل اٹھیں اور رئیس صاحب کی طرف منہ کر کے بولا۔ “رئیس صاحب، چتون بھی ٹھیک ہوگا، مگر حَپّوں بھی مزا دے ریا ہے۔”

(رضا علی عابدی کے مضمون “مشاعروں کی بود و باش” سے انتخاب)

Comments

یہ بھی پڑھیں