درشن متوا کا شمار ہندی اور پنجابی زبان کے قلم کاروں میں ہوتا ہے۔ مصنّف نے نہ صرف طویل ناول اور کہانیاں لکھیں بلکہ ان کو مختصر نویسی میں بھی کمال حاصل تھا۔
یہ درشن متوا کے قلم سے نکلی ایسی ہی ایک کہانی ہے جو تعلیم یافتہ اور ان پڑھ کے درمیان اعتماد کے فرق اور شعور کو ہی اجاگر نہیں کرتی بلکہ یہ ایک عام رویے کی عکاس بھی ہے۔ اس کہانی میں ایک خاص قسم کے غرور یا کسی کے اپنے پڑھے لکھے ہونے کے غیر ضروری اظہار کو نہایت خوب صورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ کہانی کا عنوان ہے جھجک!
پڑھے لکھے نوجوان کو کہیں جانا تھا۔ وہ بس کے اڈّے پر بسوں کے بورڈ پڑھتا پھر رہا تھا۔
بے وقوف کہلانے کے ڈر سے اس نے کسی سے بس کے بارے میں پوچھا نہیں، صرف گھومتا رہا۔
ایک بس سے دوسری اور دوسری سے تیسری اور چوتھی۔ ایک اَن پڑھ سا آدمی آیا، اس نے بس میں بیٹھے ہوئے ایک شخص سے پوچھا اور جھٹ سے بیٹھ گیا۔ بس چلنے لگی۔
پڑھا لکھا نوجوان اب بھی بسوں کے بورڈ پڑھتا ہوا وہیں چکر لگا رہا تھا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


