The news is by your side.

"جانے دیجیے، یہ تصوف کا معاملہ ہے!”

ریڈیو پاکستان کے رائٹرز یونٹ میں چراغ حسن حسرت کی سربراہی میں احمد فراز بھی کام کرتے تھے۔

حسرت صاحب نے احمد فراز سے کہا کہ مولانا، داتا گنج بخش پر فیچر تیار کیجیے۔

احمد فراز نے فیچر لکھنے کی تیاری شروع کی۔ دوسرے دن حسرت صاحب نے پوچھا۔ مولانا، کچھ ہوا؟

احمد فراز بولے کہ جی ہاں کچھ ہوا تو ہے۔

یہ سن کر حسرت صاحب سوچ میں پڑ گئے۔ سگریٹ کا لمبا کش لیا اور بولے۔

”مولانا جانے دیجیے۔ یہ تصوف کا معاملہ ہے اور آپ ٹھہرے ترقی پسند، آپ کا کیا اعتبار خدا کو خدا صاحب لکھ دیں گے۔

احمد فراز نے اس فیچر میں تو خدا کو خدا صاحب نہیں لکھا تھا، مگر اپنی شاعری میں وہ کچھ نہ کچھ تو کرتے ہوں گے کہ لوگ بھڑک اٹھتے ہیں۔

مولانا چراغ حسن حسرت عالم آدمی تھے۔ فارسی و اردو کلاسیکی ادب سے گہری دل چسپی تھی۔ لفظوں کے پارکھ ۔ اس لیے یہ تو ممکن نہیں کہ وہ یہ نہ جانتے ہوں کہ ماضی میں اسم خدا اور اللہ کے ساتھ صاحب کا لفظ مستعمل رہا ہے۔ بس ان کا خیال ہوگا کہ اب اس لفظ کے استعمال سے اجتناب بہتر ہے۔

(ممتاز ادیب انتظار حسین کی کتاب ”ملاقاتیں“ سے انتخاب)

Comments

یہ بھی پڑھیں