The news is by your side.

Advertisement

عظیم صوفی بزرگ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے 274 ویں عرس کا آغاز

حیدرآباد : عظیم صوفی بزرگ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی رحمۃ اللہ علیہ کے 274 ویں عرس کا آغاز ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق صوفی بزرگ شاعر شاہ عبدالطیف بھٹائی کے 274ویں عرس کی تین روزہ تقریبات کا آغاز ہوگیا، عرس کاافتتاح قائم مقام گورنراسپیکرسندھ اسمبلی آغاسراج ۔درانی نے چادرچڑھا کرکیا، آغاسراج درانی نے فاتحہ خوانی کی اور شاہ بھٹائی کا کلام سنا۔

عظیم صوفی بزرگ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی رحمۃ اللہ علیہ کے 274 ویں عرس کے مو قع پرسیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، درگاہ کو پھولوں ، خوبصورت جھنڈیوں اور لائٹوں سے آراستہ کیا گیا ہے۔

روحانی رہبر کی حاضری دینے کے لیے عقیدت مندوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

ضلعی انتظامیہ اور مٹیاری پولیس کی طرف سے سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کئے گئے ہیں، شاہ لطیف کے عقیدت مندوں کے لیے مفت طبی کیمپ، پانی کی سبیلیں اور لنگر کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی ؒکی تین روزہ عرس تقریبات کا باقاعدہ افتتاح صوبائی وزیر ثقافت سید سردار علی شاہ، صوبائی وزیر ضیاء الحسن لنجار اور وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے محکمہ اوقاف سید غلام شاہ جیلانی مزار پر چادر چڑھا کر اور فاتحہ خوانی کر کے کریں گے۔

ایس ایس پی مٹیاری سید امداد علی شاہ کی ہدایات پر عرس کے دوران پولیس کی طرف سے سیکیورٹی کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی گئی ہے، تقریباً دو ہزار پولیس اہلکار، دس موبائلوں پر مشتمل 100 رینجرز اہلکاروں کے ساتھ سیکیورٹی کے فرائض انجام دیں گے۔

عرس مبارک کی تین روزہ تقریبات کے لیے پولیس اہلکاروں کے ساتھ رینجرز اہلکاروں کو بھی مقرر کیا گیا ہے، انٹیلی جنس نیٹ ورک کو ہائی الرٹ کرکے سادہ کپڑوں میں بھی اہلکار مقرر کئے گئے، درگاہ سمیت مختلف مقامات پر کلوز سرکٹ کیمرے نصب کئے گئے ہیں، جبکہ ڈرون کیمرے کے ذریعے میلے کی فضائی نگرانی بھی کی جائے گی۔

مختلف مقامات پر واک تھرو گیٹس بھی لگائے گئے ہیں،پولیس کے علاوہ کسی کو بھی ڈرون کیمرا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ عرس مبارک کے تینوں دن ملاکھڑا اور محفل موسیقی بھی منعقد کی جائے گی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں