The news is by your side.

Advertisement

امریکی ریاستوں‌ کے گوگل پر سنگین الزامات، پابندی عائد

نیویارک: امریکا کی 37 ریاستوں نے انٹرنیٹ کی سب سے بڑی کمپنی گوگل پر سنگین الزامات عائد کردیے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی ریاستوں نے گوگل پر الزام عائد کیا کہ وہ پلے اسٹور پر غیر قانونی طریقے سے اپنی اجارہ داری قائم رکھے ہوئے ہے، جس کی بدولت وہ صارفین کی اپیلیکیشن کو سامنے آنے سے روک دیتا ہے اور اپنی ایپس سے ماہانہ لاکھوں ڈالرز کی آمدنی اشتہارات کی مد میں حاصل کرتا ہے۔

گوگل پر یہ الزام پہلی بار عائد نہیں کیا گیا، اس سے قبل 2019 میں بھی امریکا کی بیشتر ریاستوں نے گوگل کی زیرملکیت تین کمپنیوں کے خلاف اجارہ داری کا مقدمہ درج کرایا تھا۔ امریکی ریاستوں نے الزام عائد کیا تھا کہ گوگل پلے اسٹور کی پر اپنی اجارہ داری کو محفوظ بنا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: گوگل پر اربوں روپے جرمانہ عائد

دوسری جانب انٹرنیٹ کی سب سے بڑی کمپنی گوگل نے امریکی ریاستوں کی جانب سے عائد ہونے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنا ردعمل بھی جاری کردیا۔

گوگل کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’ہم دوسروں کی طرح صرف اپنی مصنوعات کو فروغ نہیں دیتے بلکہ اینڈرائیڈ ایپس بنانے والوں کو بھی پروموٹ کرتے ہیں، ہماری ترجیح بڑے ایپ ڈویلپرز کو فروغ دینا ہے۔‘

گوگل کے مطابق امریکا میں 90 فیصد سے زائد شہری اینڈرائیڈ اسمارت فونز استعمال کرتے ہیں، جن کو دیکھتے ہوئے ہم نے موبائل کمپنیوں اور سیلولر کمپنیز سے معاہدے کیے۔

ترجمان کے مطابق اس سارے اختیار کے باوجود گوگل پریہ الزام لگایا گیا ہے کہ وہ اپنی ایپس کے علاوہ دیگر ایپ ڈیویلپرز کو پروموٹ نہیں کرتا، یہ سرا سر غلط ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاکھوں‌ صارفین کے لیے بری خبر، گوگل کا معروف ایپلی کیشن بند کرنے کا اعلان

اسے بھی پڑھیں: گوگل سمیت کئی بڑی کمپنیوں کا سعودی عرب سے متعلق بڑا فیصلہ

کولمبیا اور کیلی فونیا کا بھی گوگل کے خلاف یہی موقف ہے کہ گوگل  ساتھ کام کرنے والوں سے 30 فیصد شیئر لیتا ہے جبکہ دوسری ویب سائٹس 3 فیصد شیئرز لیتی ہیں۔ امریکی ریاست نے رقم واپسی تک گوگل کے ساتھ کام کرنے پر پابندی عائد کردی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں