The news is by your side.

Advertisement

مالی امداد کی ضرورت نہیں، امریکا قربانیوں کا اعتراف کرے، آرمی چیف

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان مخالف تقریر پر کہا ہے کہ پاکستان کو مالی امداد کی نہیں اعتماد کی ضرورت ہے، امریکا پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جی ایچ کیو میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل سے ملاقات کی اور ٹرمپ کی موجودہ تقاریر پر گفتگو کی۔

ملاقات کے دوران آرمی چیف نے سفیر کو باور کرایا کہ ہمیں امریکی امداد کی نہیں بلکہ اُس کے اعتماد کی ضرورت ہے، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دیں ہم بس اُس کی پذیرائی چاہتے ہیں۔

امریکی سفیر نے کہا کہ امریکا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کی بہت قدر کرتا ہے اور افغانستان میں امن و امان قائم کرنے کے لیے پاکستان کے تعاون کا طلب گار بھی ہے۔

آرمی چیف نے واضح کیا کہ افغانستان میں امن پاکستان کے لیے بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کسی دوسرے ملک میں ہے،  افغانستان میں امن کے لیے پاکستان بہت کچھ کر چکا ہے اور ہمارے اقدامات کسی کو مطمئن کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنی قومی سلامتی اور مفاد کے لیے ہیں ہم اس طرح کے اقدامات آگے بھی کرتے رہیں گے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے مزید کہا کہ افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے لیے تمام فریقین کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تب ہی اس کا خاتمہ ممکن ہوگا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف بھی کرنا ہوگا۔

یاد رہے کہ 1 روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان اور جنوبی ایشیاء سے متعلق امریکی پالیسی بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کو دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا صفایا کرنا ہوگا کیونکہ امریکا پاکستان کو دہشت گردوں کے خلاف اقدامات کے لیے اربوں ڈالر فراہم کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا نے پاکستان کو اربوں ڈالر دیے ہیں، نتائج چاہئیں، ٹرمپ

امریکی صدر نے الزام لگایا تھا کہ پاکستان دہشت گردوں کو پناہ فراہم کرتا رہا ہے اور پاکستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ہیں،  پاکستان کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف بہت قربانیاں دی ہیں جن کے نتائج سامنے آنا چاہیئں۔

ٹرمپ نے کہا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پرخاموش نہیں رہیں گے۔


 اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں