The news is by your side.

Advertisement

یوکرین میں‌ امریکی سفیر کی خفیہ نگرانی، ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف تحقیقات شروع

کیف/واشنگٹن : یوکرینی حکام نے سابق امریکی سفیر میری یووانووچ کو اچانک واپس امریکا بلانے کی تحقیقات شروع کردی، حکام کو خدشہ ہے کہ یوکرین میں تعینات امریکی کی ٹرمپ انتظامیہ نے خفیہ نگرانی کی تھی۔

تفصیلات کے مطابق یوکرین کے عہدے داروں نے کہاہے کہ انہوں نے اس بارے میں چھان بین شروع کر دی ہے آیا گزشتہ سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یوکرین میں امریکہ کی سابق سفیر میری یووانووچ کو اچانک ملک واپس بلانے سے قبل ان کی غیر قانونی طور پر جاسوسی کی گئی تھی۔

ایک سویت نژاد امریکی کاروباری شخص اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی اٹارنی روڈی جولیانی کے ایک قریبی ساتھی لیو پرناس نے ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائیوں اور سینیٹ کے مقدمے کے لیے دستاویزات کا ایک بنڈل فراہم کیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ان دستاویزات میں وہ خطوط اور ٹیکسٹ میسیجز شامل ہیں جن سے یوکرین کے لیے سابق امریکی سفیر میری یووانووچ کے بارے میں روڈی جولیانی کی بات چیت شامل ہے، جن میں کیف میں ان کی نقل و حرکت کی نگرانی کی بات چیت شامل تھی۔

جب پرناس کے ان الزامات کے بارے میں پوچھا گیا کہ ٹرمپ چاہتے تھے کہ وہ یوکرین کو ان کے امکانی ڈیموکریٹ مد مقابل سابق نائب صدر جو بائیڈن کے بارے میں کسی چھان بین کے اعلان پر قائل کریں، تو ٹرمپ نے بار بار زور دے کر کہا کہ وہ پرناس کو نہیں جانتے۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے ایک ایسے شخص کی مدد کی ضرورت نہیں جسے میں اس سے پہلے کبھی ملا نہ ہوں، سوائے اس کے کہ شاید کسی فنڈ ریزنگ کے دوران کوئی تصویر کھنچوائی ہو۔

یوکرین کی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ وہ پرناس کے الزامات کی چھان بین کرے گی اور یہ کہ ہو سکتا ہے کہ سفیر کے سفارتی حقوق اور یوکرین کے قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہو۔

بین الاقوامی قانونی ضابطہ کار کے مطابق، داخلی امور کے وزیر ایرسن ایواکوف نے کہا کہ امریکا کی طرف سے اس کارروائی میں حصہ لیا جا سکتا ہے، یوکرین کو توقع ہے کہ امریکا فوری طور پر جواب دے گا اور وہ تعاون کے منتظر ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں