(14 مارچ 2026): 400 ملین بیرل کے اخراج اور روسی تیل پر رعایت کے باوجود عالمی منڈی 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے نیچے نہیں آ سکی۔
مارچ 2026 میں عالمی توانائی کی منڈی ایک ایسے بحران کی زد میں ہے جس نے تزویراتی ذخائر کے اخراج اور پابندیوں میں نرمی جیسے بڑے اقدامات کو بھی بے اثر کر دیا ہے۔ اگرچہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے قیمتوں کو لگام دینے کے لیے تاریخی فیصلے کیے ہیں، لیکن ماہرین اور مارکیٹ کے اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ کوششیں تیل کی قیمتوں میں موجود ’’تیزی‘‘ کو کم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
توانائی کے ماہرین کا عمومی خیال یہ ہے کہ حالیہ اقدامات مارکیٹ کے نفسیاتی دباؤ کو کم کرنے میں تو مددگار ثابت ہوئے ہیں، لیکن قیمتوں کی بلند سطح کو گرانے میں ناکام رہے ہیں۔ تھنک ٹینک ’انرجی اینڈ کلائمیٹ انٹیلی جنس یونٹ‘ (ECIU) کے ٹرانسپورٹ لیڈ، کولن واکر نے کہا ہے کہ ’’حال ہی میں اعلان کردہ 400 ملین بیرل کے ذخائر کے اخراج نے بھی تیل کی قیمتوں میں کوئی خاص کمی نہیں کی، جو اب بھی 100 ڈالر فی بیرل کے قریب برقرار ہیں۔‘‘
واکر کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ ان اقدامات سے روس جیسے ممالک کو مالی فائدہ پہنچ رہا ہے، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ اس سے عام صارفین کے لیے پیٹرول کی قیمتوں پر کوئی حقیقی دباؤ کم ہوگا یا نہیں۔
400 ملین بیرل کا اخراج: ایک ناکافی حل؟
11 مارچ 2026 کو بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے 32 رکن ممالک نے 400 ملین بیرل تیل جاری کرنے کا فیصلہ کیا، جو کہ ایجنسی کی تاریخ کا سب سے بڑا اخراج ہے ۔ اس میں امریکا کا حصہ 172 ملین بیرل ہے۔ تاہم، اس تاریخی اقدام کے باوجود مارکیٹ میں قیمتیں بدستور بلند رہنے کی کئی وجوہ ہیں۔
سپلائی اور ڈیمانڈ میں بڑا فرق موجود ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جب کہ 400 ملین بیرل کا مجموعی ذخیرہ عالمی یومیہ کھپت کے مقابلے میں صرف چند دنوں کی رسد کے برابر ہے۔
ترسیل میں وقت کا زیاں ہو رہا ہے۔ امریکی محکمہ توانائی کے مطابق 172 ملین بیرل کی ترسیل مکمل ہونے میں 120 دن لگیں گے، جس کا مطلب ہے کہ فوری طور پر مارکیٹ میں تیل کی کمی پوری نہیں ہو سکتی۔
تزویراتی خطرات لاحق ہیں۔ مارکیٹ اس بات سے باخبر ہے کہ اس اخراج کے بعد تزویراتی ذخائر (SPR) 1982 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آ جائیں گے، جس سے مستقبل میں کسی بھی مزید ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیت کم ہو جائے گی۔
روسی تیل پر پابندیوں میں نرمی اور مارکیٹ کا ردعمل
قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی ایک اور کوشش میں امریکی محکمہ خزانہ نے ’’جنرل لائسنس 134‘‘ کے ذریعے ان روسی تیل کے جہازوں کو 30 دن کی رعایت دی ہے جو 12 مارچ تک سمندر میں لادے جا چکے تھے۔
اس فیصلے کے نتائج یہ ہیں کہ قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، اس اعلان کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمت 103 ڈالر سے گر کر 98 ڈالر تک تو آئی، لیکن جلد ہی دوبارہ 100 ڈالر سے تجاوز کر گئی۔
اسے روس کے لیے مالی فائدے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی اور دیگر ناقدین کا کہنا ہے کہ اس نرمی سے روس کو اپنی جنگی کوششوں کے لیے تقریباً 10 بلین ڈالر کا اضافی سرمایہ مل سکتا ہے، جب کہ عالمی قیمتوں پر اس کا اثر معمولی رہا ہے۔
اس فیصلے کے نتیجے میں محدود سپلائی ممکن ہو سکے گی، سمندر میں موجود روسی تیل (تقریباً 125 ملین بیرل) عالمی کھپت کے صرف ایک دن سے تھوڑا زیادہ ہے، جو کہ آبنائے ہرمز کی مستقل بندش کا متبادل نہیں ہو سکتا۔
معاشی افراطِ زر اور غیر یقینی صورت حال
گولڈمین سیکس اور جے پی مارگن جیسے مالیاتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کی بندش برقرار رہتی ہے تو تیل کی قیمتیں 150 ڈالر یا اس سے بھی اوپر جا سکتی ہیں۔ حالیہ ریلیف اقدامات کے باوجود، امریکا میں افراط زر کی شرح 3.5 فی صد تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جس سے صارفین کی قوتِ خرید میں 150 بلین ڈالر تک کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔
مجموعی طور پر امریکا کی جانب سے روسی تیل پر پابندیوں میں نرمی اور 400 ملین بیرل کے ذخائر جاری کرنے کا اعلان ایک ’’ہنگامی پیچ‘‘ سے زیادہ کچھ ثابت نہیں ہوا۔ مارکیٹ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جب تک آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل بحال نہیں ہوتی، یہ تزویراتی اقدامات قیمتوں کو 100 ڈالر سے نیچے لانے یا عالمی معیشت کو افراط زر کے دباؤ سے نکالنے میں ناکام رہیں گے۔ جیسا کہ ماہرین نے اشارہ کیا ہے، یہ اقدامات روس کے مالیاتی مفادات کو تو تحفظ دے سکتے ہیں، لیکن توانائی کی منڈی میں استحکام لانے کے لیے ناکافی ہیں۔
رفیع اللہ میاں گزشتہ 20 برسوں سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، ان دنوں اے آر وائی نیوز سے بہ طور سینئر صحافی منسلک ہیں۔



