The news is by your side.

یوکرین کے لیے جدید ہتھیاروں پر مشتمل امریکی فوجی امداد کا اعلان

واشنگٹن : امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے گزشتہ روز یوکرین کے لیے مزید ایک ارب ڈالر کی فوجی امداد کا اعلان کیا ہے۔

امریکہ یوکرین کو ایک ارب امریکی ڈالر کی اضافی سیکورٹی امداد فراہم کرائے گا، روس اور یوکرین کے تنازع کے آغاز کے بعد سے یہ سب سے بڑا ہتھیاروں کا پیکج ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق نئے اعلان کردہ امداد کے تحت وزارت دفاع کے اسلحہ ڈپو سے براہ راست راکٹس، گولہ بارود اور دوسرا اسلحہ یوکرین کی افواج کو فراہم کیا جائے گا۔

امریکی امداد کا اعلان ان خبروں کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ روس یوکرین کی جانب سے جوابی حملے کو روکنے کے لیے فوجی اور اسلحہ جنوبی ساحلی شہر کی طرف منتقل کر رہا ہے۔

اعلان کردہ امداد میں ہائی موبیلیٹی آرٹیلری راکٹ سسٹم (ہیمارس) کے لیے ضافی راکٹس، ہزاروں توپ کے گولے، مارٹر سسٹم اور دیگر اسلحہ شامل ہیں۔

ملٹری کمانڈرز اور دیگر امریکی حکام کے مطابق ہیمارس اور آرٹلری سسٹم کا روس کے یوکرین پر قبضہ روکنے میں اہم کردار رہا ہے۔

روس کی جانب سے رواں سال فروری کے آخر میں یوکرین پر حملے کے بعد سے اب تک امریکہ نے یوکرین کے لیے مجموعی طور پر نو ارب ڈالر کی مالیت کے فوجی امداد کا اعلان کیا ہے۔

امریکہ کے انڈر سیکریٹری برائے دفاعی پالیسی کولن کاہل کا یوکرین کے لیے فوجی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس تنازع کے ہر مرحلے پر ہمارا فوکس یہ رہا ہے کہ یوکرین کو میدان جنگ کے بدلتے حالات کے مطابق وہ سب کچھ حاصل رہے جس کی ضرورت ہے۔

اب تک امریکہ کی جانب سے یوکرین کے لیے اعلان کردہ سب سے بڑا پیکیج ایک ارب ڈالر کا تھا جو کہ 15 جون کو کیا گیا تھا۔ لیکن یہ 350 ملین ڈالر صدارتی ڈراڈاؤن اتھارٹی اور 650 ملین ڈالر یوکرین سکیورٹی اسسٹینس انیشیوٹیو پر مشتل تھا۔

لیکن پیر کو اعلان کیے گئے پیکج کے تحت امریکہ یوکرین کو ہتھیاروں کا سسٹم اور دوسرا اسلحہ وزارت دفاع کے گوداموں سے براہ راست فراہم کرے گا۔

یوکرین کے جوہری پلانٹ پر گولہ باری خودکشی کے مترادف ہے: اقوام متحدہ

قبل ازیں یوکرین میں ایک جوہری پلانٹ پر گولہ باری کے کے بعد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتریس نے خبردار کیا تھا کہ جوہری پلانٹ پر کوئی بھی حملہ ’خودکشی‘ کے مترادف ہے۔

نشریات کی بندش: اے آر وائی کی لائیو ٹرانسمیشن یہاں دیکھیں

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پیر کو ٹوکیو میں ایک پریس کانفرس میں انہوں نے جوہری پلانٹ پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ دہائیوں کے بعد جوہری تصادم کا خطرہ واپس آ گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے جوہری ریاستوں پر زور دیا کہ وہ ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کا عزم کریں۔

انتونیو گتریس نے کہا کہ ’جوہری پلانٹ پر کوئی بھی حملہ خودکشی کے مترادف ہے۔ مجھے امید ہے کہ حملے بند ہوں گے اور میں یہ بھی امید کرتا ہوں کہ آئی اے ای اے کو پلانٹ تک رسائی دی جائے گی۔‘

Comments

یہ بھی پڑھیں