The news is by your side.

Advertisement

ٹرمپ کا مستقبل کیا؟ 3 بینکوں کی سابق صدر کے خلاف کارروائی

واشنگٹن: امریکی پارلیمنٹ پر ٹرمپ کے حامیوں کی چڑھائی نے سابق صدر کی مشکلات بڑھا دیں، تین بینکوں نے ٹرمپ کے اکاونٹس بند کر دیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق امریکا کے تین بینکوں نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کاروباری اکاؤنٹس بند کر دیے، یہ کارروائی امریکی پارلیمنٹ پر 6 جنوری کو ان کے حامیوں کے حملے کے بعد کی گئی ہے۔

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ جمعرات کو فلوریڈا کے ایک بینک یونائیٹڈ نے بھی ٹرمپ کے تمام اکاؤنٹس بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد فلوریڈا بینک بھی ان اداروں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جنھوں نے سابق امریکی صدر کے ساتھ تعلقات ختم کر دیے ہیں۔

بینک یونائٹیڈ نے اکاؤنٹس بند کرنے کی وجہ بتائے بغیر کہا کہ ٹرمپ کے ساتھ کاروباری معاملات ختم کر دیے گئے ہیں، واضح رہے کہ ٹرمپ کے یونائیٹڈ بینک میں 2 منی مارکیٹ اکاؤنٹس تھے جن کی مالیت 51 لاکھ سے ڈھائی کروڑ ڈالر کے درمیان ہیں۔

ٹویٹر کے بعد فیس بک اورانسٹاگرام نے بھی ٹرمپ کا اکاؤنٹ بند کردیا

اس سے قبل نیویارک کے سگنیچر اور ڈوئچے بینک بھی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ مستقبل میں کوئی کاروبار نہیں کریں گے، خاص طور سے سگنیچر بینک نے تو ٹرمپ اور ان کے کانگریس حامیوں کے خلاف سخت مؤقف اپناتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ وہ فوری طور پر مستعفی ہوں۔

ڈوئچے بینک بھی ٹرمپ کی وجہ سے مشکل میں آیا ہوا ہے، اور 300 ملین ڈالر کے قرضہ جات کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، بینک کوشش کر رہا ہے کہ ان قرضوں کو کسی اور قرض دینے والے ادارے کو منتقل کر دیا جائے، کیوں کہ ٹرمپ کے ساتھ اس بینک کی ڈیلنگز کی وجہ سے منفی اثر پڑا ہے۔

ادھر فلوریڈا ہی کے ایک اور بینک پروفیشنل بینک نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات ختم کر دے گا، اور سابق صدر یا ان کے ادارے کے ساتھ مزید کوئی کاروبار نہیں کیا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں