امریکی اور چینی جنگی طیارے آمنے سامنےآگئے -
The news is by your side.

Advertisement

امریکی اور چینی جنگی طیارے آمنے سامنےآگئے

واشنگٹن : امریکی بحریہ کا پی تھری طیارہ اور چینی فوجی طیارہ بحیرہ جنوبی چین میں ایک مرتبہ پھر آمنےسامنے آگیا، امریکی پیسفک کمانڈ کا کہناہےکہ ہم مناسب سفارتی اور فوجی چینلز میں مسئلے کوحل کریں گے۔

تفصیلات کےمطابق امریکی حکام کےمطابق امریکی بحریہ اور چین کےجنگی طیارے بدھ کے روز جنوبی بحیرہ میں 305میٹر کی حدود میں غیردانستہ طور پرایک دوسرے کے قریب آگئے۔

خیال رہےکہ اس سے قبل سال 2016میں صرف دو ایسے واقعات رونما ہوئےجس میں چینی اور امریکی طیارے ایک دوسرے کے انتہائی قریب آئے ہوں۔

امریکی پیسیفک کمانڈ کے مطابق جنوبی بحیرہ چین میں امریکی طیارے بین الاقوامی قانون کےمطابق معمول کے مشن پر تھے۔

امریکی حکام نےکہاکہ دفاع اور امریکی پیسیفک کمان کا شعبہ ہمیشہ چین کےفوجی دستوں کےساتھ غیر محفوظ بات چیت کے بارے میں فکر مند ہے۔امریکی پیسفک کمانڈ کا کہناہےکہ ہم مناسب سفارتی اور فوجی چینلزکے ذریعے اس مسئلے کوحل کریں گے۔

دوسری جانب چین کی وزارت دفاع اور محکمہ خارجہ کی جانب سے بحیئرہ چین میں دونوں ممالک کےجنگی طیاروں کےقریب آنے کے حوالے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

مزید پڑھیں:بیجنگ : چین نے بین الاقوامی ثالثی عدالت کا فیصلہ مسترد کردیا

یاد رہےکہ گزشتہ سال جولائی میں بین الاقوامی ثالثی عدالت نے جنوبی بحیرہ چین پر فلپائن کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے چین کے خلاف فیصلہ سنایاتھا۔

مزید پڑھیں:چین جنوبی بحیرہ کی سمندری حدود کا قبضہ چھوڑ دے،امریکا

بعدازاں امریکہ نے چین کو خبردارکیاتھا کہ وہ عالمی عدالت کا فیصلہ تسلیم کرتے ہوئے جنوبی بحیرہ چین کی سمندری حدود کا قبضہ چھوڑ دے۔

واضح رہےکہ گزشتہ سال جولائی میں چینی سفیر نے کہاتھا کہ امریکہ سمیت کچھ ممالک اس خطے میں چین کےگرد گھیرا ڈالنےکی کوششیں کر رہے ہیں لیکن ان کو منہ کی کھانا پڑےگی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں