بدھ, مارچ 11, 2026
اشتہار

امریکا اور چین کی تجارتی جنگ، دونوں ممالک نے فیس عائد کر دی

اشتہار

حیرت انگیز

امریکا اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے جہازوں پر بندرگاہ فیس عائد کر دی۔

خبرایجنسی کے مطابق امریکا اور چین کی نئی پورٹ فیسوں سے تجارتی محاذ پھر سےگرم ہو گیا ہے۔ ٹرمپ حکومت کی نئی تجارتی پابندیوں کے جواب میں چین نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے فیس عائد کر دی۔

چین نے امریکا پر دوغلی پالیسی کا الزام لگاتے ہوئے مزید جوابی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

امریکا نے چینی مصنوعات پر100فیصد ٹیکس عائد کرنے کی دھمکی دی۔ چینی ملکیت یا چینی ساختہ جہازوں کیلئے 50ڈالر فی ٹن فیس مقرر کر دی گئی جو 2028 تک بتدریج 140 ڈالر فی ٹن تک بڑھا دی جائے گی۔

چینی ساختہ جہازوں پر فی کنٹینر 120ڈالر فیس لگائی گئی ہے جو 2028 تک 250 ڈالر کر دی جائےگی۔ ہر جہاز سے سال میں زیادہ سے زیادہ 5مرتبہ فیس وصول کی جائےگی۔

ایل پی جی اور ایتھین لےجانے والےچینی جہاز عارضی طور پر استثنیٰ حاصل کریں گے۔

خبر ایجنسی کے مطابق چین نے بھی امریکی جہازوں پر فی ٹن 400یوآن فیس عائد کر دی جو 2028 تک بڑھا کر 1ہزار120یوآن فی ٹن کر دی جائےگی۔ چین نےجنوبی کورین کمپنی ہانوااوشن کی 5ذیلی شاخوں پر بھی پابندیاں لگائی ہیں۔

چینی وزارت تجارت کا کہنا ہے کہ ہانوا کمپنی امریکی تحقیقات میں مدد کر رہی تھی اس لیےکارروائی کی گئی، امریکا ٹکراؤ چاہتا ہے تو یہ جنگ آخر تک جائےگی۔

چین دنیا کا سب سے بڑا جہاز ساز ملک بن چکا ہے۔53فیصد تجارتی جہاز چین میں تیار ہوئے۔ چینی اسٹیٹ شپ بلڈنگ کارپوریشن نے2024 میں امریکی پیداوار سے کہیں زیادہ جہاز بنائے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں