The news is by your side.

Advertisement

امریکی شہریوں کی اوسط عمر میں‌ تین سال کی کمی کا انکشاف

واشنگٹن: امریکی ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی شہریوں کی اوسط عمر تقریباً تین سال کم ہوگئی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا کے وبائی امراض کی روک تھام کے حوالے سے قائم ادارے یو ایس فار ڈیزیز کنٹرول نے امریکی شہریوں کی اوسط عمر کے حوالے سے تحقیقی رپورٹ جاری کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2020 کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران امریکی شہریوں کی عمر اوسط ایک سال کم ہوئی، جنگ عظیم دوئم کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب امریکی شہریوں کی اوسط عمر میں کمی ہوئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2020 میں جنوری سے جون تک کے اعداد و شمار میں یہ بات سامنے آئی کہ عمر کی اوسط کم ہونے سے سب سے زیادہ اقلیتیں متاثر ہوئیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیاہ فام شہریوں کی اوسط عمر میں تین سال کمی دیکھنے میں آئی جبکہ ہسپانوی امریکیوں کی اوسط عمر دو سال کم ہوئی۔

امریکا کے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ شہریوں کی عمر میں کمی کرونا وبا کے نقصانات کی وجہ سے ہوئی کیونکہ اس دوران منشیات کا استعمال بہت زیادہ بڑھ گیا جس کی وجہ سے دل کے امراض بھی تیزی سے پھیلے۔

ماہرین کے مطابق سال 2020 میں کرونا کے علاوہ دیگر بیماریاں بھی تیزی سے پھیلیں جن میں عارضہ قلب سب سے نمایاں ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال 2020 سے پہلے 6 ماہ میں امریکییوں کی اوسط عمر 77 اعشاریہ 8 برس تھی جبکہ 2019 میں 78 اعشاریہ 8 برس عمر تھی۔

جاری اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں مردوں کی عمر 75 اعشاریہ ایک برس جبکہ خواتین کی اوسط عمر 80 اعشاریہ پانچ برس ہے۔

امریکا میں اوسط عمر بیسیوں صدی کے دوران تسلسل سے بڑھ رہی تھی جو کسی بھی ملک کی آبادی کے صحت مند ہونے کی نشانی ہے ۔ مگر گزشتہ سال  ہلاکت خیز ثابت ہوئی جس کے دوران 30 لاکھ سے زائد افراد کرونا سمیت دیگر بیماریوں سے موت کے منہ میں گئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں