امریکی کمانڈرز نے صدر ٹرمپ کے ایران پر ممکنہ فوری حملے کے منصوبے کی مخالفت کر دی۔
برطانوی جریدہ ٹیلی گراف کے مطابق امریکی کمانڈرز نے ٹرمپ کو ایران پر فوری حملے سے خبردار کرتے ہوئے ممکنہ کارروائی کی مخالفت کی ہے۔
سینئر امریکی کمانڈرز کا کہنا ہے کہ مضبوط پوزیشنز اور دفاعی انتظامات کرنے کیلئے مزید وقت چاہیے امریکی کارروائی کے الٹے اثرات بھی نکل سکتے ہیں۔
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران میں جاری مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کے ردِعمل میں ایران پر حملے کے نئے آپشنز سے متعلق بریفنگ دی گئی ہے۔
امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کو ایران پر فوجی حملوں کے آپشنز پر بریفنگ دی گئی ہے جس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ایران میں جاری مظاہروں کے موقع پر تہران میں غیرفوجی اہداف پر حملوں سے متعلق سنجیدگی سے غور شروع کردیا ہے۔
واضح رہے کہ جون میں امریکا نے ایران اسرائیل جنگ کے دوران ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کی تھی۔
امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ نے کئی روز پہلے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم تروتھ سوشل پر کہا کہ ‘ایران آزادی چاہتا ہے اور شاید پہلے سے کہیں زیادہ، امریکا ایران کی مدد کے لیے تیار ہے۔’
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سکیورٹی میٹنگ میں شریک تین ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل ایران پر کسی بھی ممکنہ امریکی حملے کے پیشِ نظر ہائی الرٹ پر ہے۔
ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ احتجاج ایران کا اندرونی معاملہ ہے لیکن اسرائیلی فوج صورتحال کی نگرانی کر رہی ہے۔


